کراچی میں پولیس پر حملہ دہشتگردی کی بڑی واردات نکلا

0
24

کراچی: فیڈرل بی ایریا میں پولیس پر حملہ اسٹریٹ کرائم نہیں بلکہ ایک منظم دہشت گردی کی بڑی واردات نکلا۔

پولیس موبائل پر دہشت گردوں کے حملے کی مکمل منظر کشی کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لی پولیس پارٹی پر ٹارگیٹڈ فائرنگ کی تحقیقات کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کی سپرد کی جائے گی ۔

قانون کے محافظ خود ہی دہشت گردوں کے نشانے پر آگئے ۔ فیڈرل بی ایریا بلاک 22 میں پولیس موبائل کو کس فلمی انداز میں گھیر کر اسے نشانہ بنایا گیا اس تمام واقعہ کی منظر کشی کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا۔

پولیس موبائل پر پانچ دہشت گردوں نے حملہ کیا جس کے لئے تین موٹر سائیکلوں پر سوار 5 ملزمان کو پولیس موبائل کو نشانہ بناتے دیکھا جاسکتا ہے ، سی سی ٹی وی فوٹیجز میں دیکھا گیا ہے کہ ملزمان سڑک پر کھلے عام پولیس موبائل کا راستہ روک کر فائرنگ کرتے نظر آتے ہیں جبکہ پولیس اہلکاروں کو حملہ آوروں پر جوابی فائرنگ کا موقع نہ ملا ، اور ملزمان با آسانی حملہ کر کے فرار ہو گئے۔

فوٹیجز میں دیکھا گیا ہے پانچ حملہ آوروں میں سے تین نے ہیلمٹ لگا رکھے تھے ، جبکہ سیاہ کوٹ پینٹ اور ٹائی پہنے ایک ہاتھ میں پستول اور دوسرے ہاتھ میں بیگ پکڑے ملزم کو بھی فائرنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

پولیس موبائل نے جیسے ہی موڑ کاٹا وہاں موجود ملزم نے موٹرسائیکل سے اتر کر فائرنگ کی اور ملزمان کو پولیس کے تعاقب میں بھاگتے ہوئے فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ دیگر ملزمان نے بھی موٹر سائیکلوں سے اتر کر پولیس موبائل پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار 35 سالہ عامر ولد شاہنواز اور دو راہگیر کامران شاہ اور ناصر علی زخمی ہوئے۔

پولیس اہلکار کو تین گولیاں لگی ہیں جس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے ۔ موبائل پر حملے کے مقدمہ کی تحقیقات کائونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے سپرد کی جائیں گی ۔

Leave a reply