fbpx

مقبوضہ کشمیر: معروف فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرا ایک اور عالمی ایوارڈ کے لیے نامزد

مقبوضہ کشمیر: معروف فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرا ایک اور عالمی ایوارڈ کے لیے نامزد

باغی ٹی وی :سرینگر مقبوضہ جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ معروف خاتون فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرا کو جرأت مندانہ اور اخلاقی صحافت پر ‘پیٹر میکلر ایوارڈ فار کوریجس اینڈ ایتھیکل جرنلزم 2020’ کے لئے نامزد کیا گیا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق زہرا کو سال رواں کے ہی ماہ جون میں واشگٹن ڈی سی میں قائم انٹرنیشنل وومنز میڈیا فاؤنڈیشن نے سال 2020 کے ‘آنجا نائیدر نگہاس کریج ایوارڈ’ سے سرفراز کیا تھا۔
گلوبل میڈیا فورم ٹریننگ گروپ اور پیٹر میکلر ایوارڈ کی بانی کیتھرین انٹونی کا کہنا ہے: ‘مسرت زہرا ان تمام صلاحیتوں کی جلوہ نمائی کرتی ہیں جنہیں میرے مرحوم شوہر پیٹر میکلر نے نامہ نگاروں میں پروان چڑھایا۔ مسرت کا، تمام تر خطرات کے باوجود رپورٹنگ کے تئیں جذبہ اور دنیا کے حالات و واقعات کے تئیں بے خوف اور تخیلقی اپروچ نے ہمارے فیصلے کو آسان بنا دیا’۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ایوارڈ سائٹیشن میں کہا گیا ہے کہ محترمہ زہرا کو ان کے کام کے دوران پولیس نے طلب کیا تھا اور ان پر جعلی خبریں پھیلانے اور ملک دشمن عناصر کی حمایت کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
مسرت زہرا نے ساوتھ ایشین وائرکو بتایا کہ یہ ایوارڈ مجھے سال رواں کے دوران ہی حاصل ہونے والا ایک اور بڑا اعزاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ میرا ہی ایوارڈ نہیں ہے بلکہ مشکل ترین حالات میں جان کو جوکھم میں ڈالنے والے تمام صحافیوں کی عزت افزائی ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی پیٹر میکلر ایوارڈ سے سر فراز ہونے پر مسرت زہرا کے نام مبارکباد کے پیغاموں کا ایک سیلاب امڈ آیا ہے۔
صارفین، جن میں صحافتی برادری سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں، کی طرف سے مسرت کو ایک ہی سال کے اندر دوسرے بین الاقوامی سطح کے ایوارڈ سے سرفراز ہونے پر مبارک باد پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مسرت زہرا جو بحیثیت فری لانسر کام کرتی ہیں، کے خلاف رواں برس اپریل میں جموں و کشمیر پولیس نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ‘اینٹی نیشنل پوسٹس اور تصویریں’ اپ لوڈ کرنے کے الزام میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون اور تعزیرات ہند کی دفعہ 505 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس کو ابھی تک واپس نہیں لیا گیا ہے۔
مسرت زہرا سے قبل رواں برس مئی میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے تین فوٹو جرنلسٹس ڈار یاسین، مختار خان اور چنی آنند، جو امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے ساتھ وابستہ ہیں، کو سال گذشتہ پانچ اگست کے بعد کشمیر میں پیدا شدہ انتہائی مخدوش حالات کی عکس بندی کرنے پر فیچر فوٹو گرافی کے زمرے میں سال 2020 کے پلٹزر پرائز کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔