fbpx

خان صاحب! کراچی سے سیالکوٹ اور نوشہرہ تک عوام آپ سے ناراض ہیں

کراچی الیکشن تو پیپلز پارٹی جیت گئی مگر اس پر بھی ن لیگ نے شور مچا رکھا ہے کہ ان کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے۔اس الیکشن میں پی ایس پی اور کالعدم تحریک لبیک نے بھی اچھے خاصے ووٹ بٹورے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کہاں چلی گئی وہ تو اس الیکشن میں چوتھے نمبر پر جا کر رکی۔2018کے الیکشن میں کراچی سے دھوم دھام سے الیکشن جیتنے والی پی ٹی آئی محض تین سالوں میں ہی اتنی ٹھس ہو گئی کہ انہیں منہ چھپانے کے لیے جگہ ہی نہیں مل رہی ہے کہ وقت سے پہلے ہی تحریک انصاف کے امیدوار بوریا بستر لپیٹ کر شکست تسلیم کر کے چل دیے تھے۔
جبکہ یہ وقت وزیراعظم عمران خان کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ملک بھر میں مقبولیت حاصل کرنے والی پی ٹی آئی جسے اس اسٹیج پر آنے کے لیے کم سے کم 25سال لگے تھے اور اس نے محض تین سال کے عرصے میں ناکامی کا منہ دیکھنا شروع کر دیا اور ملک بھر میں ہونے والے ضمنی الیکشنز میں وہ بری طرح ہارنا شروع ہو گئی۔
اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن کامران خان نے سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ”عمران خانصاحب پی ٹی آئی عوامی مقبولیت آج کہاں کھڑی ہے جاننے کا سادہ نسخہ آج کراچی این اے 245 نوشہرہ پی کے 63 گجرانوالہ PP 51 ڈسکہ NA 75 نتائج دیکھ لیں نوشتہ دیوار ہے کراچی سے سیالکوٹ سے نوشہرہ تک عوام آپ سے ناراض ہیں آج کراچی سے پشاور تک عوام ن لیگ کو PTI پر ترجیح دے رہے ہیں۔
“انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا”مفتاح اسماعیل جتنی شاباش دی جائے کم ہے نا آفریدی جیسی وفاقی حکومت مدد نہ مندوخیل جیسی پشت پر سندھ حکومتی قوت مفتاح دن رات campaign کرتے رہے NA 249 نے کراچی کے نواز شریف پرچم اٹھائے تعلیم یافتہ بزنس مین کو تقریباً جتوادیا 500 ووٹ کی ہار کوئی ہار نہیں ن لیگ کو PTI سے دو گنا ووٹ ملے۔“ بات تو ٹھیک ہے کہ عمران خان صاحب کو اپنی پرفارمنس پر توجہ دینی چاہیے اور ان حالات اور وجوہات پر بھی غور کرناچاہیے کہ جس سے آج پی ٹی آئی کو یہ وقت دیکھنا پڑ رہا ہے کہ عوام اسے ووٹ دینے کے لیے میدان میں نہیں آ رہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.