fbpx

خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب
خطاطی کاا سلام ، قرآن اور مساجد سے گہرا تعلق ہے ، یہ مسلمانوں کاتہذیبی وثقافتی ورثہ ہے خطاطی انسان کی شخصیت کو سجاتی سنوارتی اور نظم وضبط کا پابند بناتی ہے نظم وضبط کاپابند انسان معاشرے کے لئے زیادہ مفید اور کامیاب ہوتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ حکومت خطاطی کے فن کی سرپرستی کرے والدین خود بھی خطاطی سیکھیں اور اپنے بچوں کو بھی سیکھائیں ۔

ان خیالات کااظہار مسجد نبوی کے نقاش استاد اصغر علی ، کیلیگرافی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری عرفان قریشی ، استادخالد محمود اور انگلش عربی کے معروف خطاط عکاشہ ساھل نے دارالسلام میں ” خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل “ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

استاد اصغر علی نے کہا کہ مسجد بنوی میں نقاشی میرے لئے اعزاز کی بات ہے ۔ اللہ نے مجھے یہ اعزاز خطاطی کی خدمت کی وجہ سے دیا ہے ۔ اس سے خطاطی کی اہمیت کو سمجھاجاسکتا ہے ۔اس لئے میں والدین سے کہوں گاکہ وہ خود بھی خطاطی سیکھیں اور اپنے بچوں کو بھی سیکھائیں ۔عرفان قریشی نے مطالبہ کیا کہ حکومت خطاطی کے فن کی سرپرستی کرے ، خطاطی تعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل کی جائے اور کیلیگرافی کے طلبہ وطالبات کو سکالر شپ دیے جائیں ۔ عکاشہ ساھل نے کہا کہ ہم اب تک ہزاروں طلبہ وطالبات کو خطاطی سیکھا چکے ہیں جبکہ مزید دس لاکھ بچوں کو خطاطی سیکھانے کاعزم ہے ۔ جبکہ خطاطی ورکشاپ کا سلسلہ بھی ایک سال سے جاری ہے ۔ہدف دس لاکھ بچوں بچیوں کو خطاطی سیکھانا اور پاکستان کانام روشن کرنا ہے ۔تقریب کے آخر میں ” خطاطی کی خدمت کے پانچ سال تکمیل “ کی خوشی میں کیک کاٹا گیا ۔ تقریب سے تنزیل آرٹ سٹوڈیو کے تنزیل احمد اور آصف علوی نے بھی خطاب کیا