fbpx

کیا دین اور سیاست جدا جدا ہیں؟ . تحریر : مزمل رتھ

موجود دور میں اگر دیکھا جائے تو عموماً دین اور سیاست کو جدا سمجھا جاتا ہے اور یہ تاثر بہت حد تک سرائیت کرچکا ہے کہ مذہب کو ملکی و سیاسی معاملات سے دور رکھا جائے ۔ یہ نظریہ سب سے پہلے مغرب میں پیدا ہوا اور اس کے بعد ہماری جمہوری پارٹیوں نے اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں متعارف کروایا حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق دین کا سیاست کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ لیکن موجودہ جمہوری اشرافیہ نے دین کو سیاست سے جدا کرکے پیش کیا تاکہ اسلامی نظریات کے حامل لوگوں کو اقتدار سے دور رکھ سکیں اور اس کے مقابل استعمار اسلامی ممالک پر اپنا قبضہ جما سکے اور ان پر حکومت کر سکیں۔

سیاست دین کا حصہ ہے اور سیاست دین کے تناظر میں معاشرے کی ضرورت بنتی ہے۔ اگر دین کو سیاست سے جدا کردیا جائے تو اس کی مثال ایسے درخت کی سی ہے جو سوکھ کر اپنی رونق و تازگی کھو چکا ہوتا ہے۔ استعمار کئی سالوں کے تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اس کے مفادات کے حصول میں بڑی رکاوٹ اسلامی آئین و قوانین ہیں.
انکی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ دین اور سیاست کو الگ الگ رکھیں اور وہ اس میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں اگر دیکھا جائے تو وہ عوام کے ذہن میں یہ بات ڈالنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں کہ دین اور سیاست دو الگ چیزیں ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی اسلامی نظریات رکھنے والے جماعت ملک میں اسلامی نظام کی تشکیل کے لئے جدوجہد کرتی ہے تو اس کو یہ طعنے دیا جاتا ہے دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ جنونی ہیں اور دین کو سیاست اور مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ انہیں شدت پسند اور دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے حالانکہ دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا اسلام میں یہ تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی تعلیمات کو ایک طبقہ سنبھالے گا (ہہاں مراد علماء کرام) جبکہ دیگر سیاسی نظام و نظام حکومت دوسرا طبقہ جیسا کہ آج کل کے جمہوری سیاستدان ۔اس لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد خلفائے راشدین مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور دینی رہنماء بھی ۔ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت و رہنمائی ملی ، مسلمان قوت و سربلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے ۔ اس کے برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قوت قوم پرستون نے تو مسلمان آپسی جنگوں کا شکار ہوکر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے ۔

موجودہ دور میں جہاں نا صرف دین کو سیاست سے دور کردیا گیا بلکہ اسلامی سوچ کے حامل لوگوں کے نظریات بدلنے کیلئے بہت سے اسلامی ماڈل بھی تشکیل کردیے گئے جیسے روشن خیال اسلام ، رجعت پسند اسلام اور نہ جانے اسلام نے کون کون سے ماڈل ۔ حالانکہ اسلام ایک ہی ہے اور یہ وہ اسلام ہے جو قرآن وسنت میں پایا جاتا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کرام نے اپنے عملی نمونوں سے ہیش کیا ۔ آج کے دور میں معاشرتی برائیوں کے خلاف مزاحمت کرنا اور حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنا کسی بھی شخص کا حق سمجھا جاتا ہے جبکہ اسلام اس کو حق ہی نہیں واجب قرار دیتا ہے ۔
اسی تناظر میں سیاست اور سیاسی معاملات کو کسی بھی طرح سے دین سے جدا کرنے کا مطلب اس کی اصل روح کو نکالنا ہے ۔ علامہ اقبال نے اس کو یوں بیان کیا
َجدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

MuzRizvi19