*کے ایم سی کو گجر نالے کے ساتھ لیز مکانات منہدم نہ کرنے کی ہدایت*

کراچی: انسداد تجاوزات ٹریبونل نے کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کو گجر نالا کے ساتھ جاری آپریشن کے دوران باضابطہ لیز پر دیئے گئے مکانات کو منہدم کرنے سے روک دیارپورٹ کے مطابق پریذائیڈنگ آفیسر شکیل احمد عباسی کی سربراہی میں ٹریبونل نے نالا کے ساتھ لیز پر دیے گئے مکان پر ممکنہ مکانات کو منہدم کرنے کے خلاف فیڈرل بی ایریا اور نیو کراچی کے رہائشیوں کی جانب سے دائر دو الگ الگ درخواستوں پر آپریشن کو 15 روز کے لیے روک دیا مدعیوں نے بلدیاتی حکومت کے سیکریٹری، کراچی ایڈمنسٹریٹر اور کمشنر، ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن ایسٹ کے چیئرمین، سندھ کچی آبادی اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل/چیئرمین اور نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین کو مدعا علیہ کے طور پر پیش کیا تھا۔عدالتی کارروائی کے دوران اسسٹنٹ کمشنر (وسطی) ڈاکٹر محمد حسن طارق نے ٹربیونل کے سامنے پیش ہوکر کہا کہ غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کے ایم سی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے این ڈی ایم اے کے ایک نمائندے نے کہا کہ عدالت عظمٰی نے شہر میں نالوں کی صفائی کے لیے غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں مسمار کرنے کے اتھارٹی کو اختیار دیا ہے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے آپریشن کے دوران بے گھر ہوئے لوگوں کی بحالی عدالت عظمیٰ نے سندھ حکومت کو سونپی ہے کے ایم سی کے ایک قانونی مشیر نے عہد کیا کہ گجر نالا کے ساتھ آپریشن کے دوران قانونی طور پر لیز پر دی گئی اراضی پر کسی بھی تعمیرات کو مسمار نہیں کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.