لائکس و کمنٹس سمیٹنے کے لئے را بی پیرزادہ کا انتہائی سطحی اور سستا طریقہ : بقلم ، فردوس جمال !!!

وہ پہلے بیڈ روم سے سانپوں اور مگرمچھوں کے ساتھ ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کرتی رہی مگر بات نہ بنی پھر ایک رات اس نے اپنے سب ‘اثاثے’ ظاہر کرتے ہوئے اپنی ہی الف ننگی ویڈیو اسی بیڈ روم سے لیک کر دی ہر طرف اس کا چرچا ہوا،اقبال کے شاہین انبکس اور پرسنل پر ایک دوسرے سے اس ویڈیو کی ڈیمانڈ کرتے دکھائی دیے.

پھر چند دن بعد موصوفہ نے اسلامی گیٹ اپ بنا کر اسی بیڈ روم سے ایک اور ویڈیو اپلوڈ کر دی اب کے موصوفہ خوش الحانی میں قرآن پڑھ رہی تھی اور توبہ کا اعلان کر رہی تھی اقبال کے شاہینوں میں اب کے سخت اختلاف ہوا کمنٹ بکس میں رش لگا ہوا تھا کچھ نے کہا اس کا توبہ نہیں ہے کچھ توبہ قبول ہے قبول کی سند بخش رہے تھے خیر موصوفہ کو بہت توجہ ملی،علماء کرام سے دین نہ سیکھنے والے ایک طبقے نے اب بقاعدہ دین سیکھنے کے لئےاس کے یوٹیوب کے دروازے کا رخ کیا.

اب موصوفہ نے ایک نیا انکشاف کر ڈالا ہے کہ قرآن مجید کے 38 پارے ہیں،ایک بار پھر موصوفہ خبروں میں ہے،ایک بار پھر وہ معافی مانگے گی اور ایک بار پھر قبول ہے قبول کا پروانہ دینے والے ٹوپیاں سیدھی کرتے ہوئے اس کے یوٹیوب چینل کی نشستوں پر بیٹھے دکھائی دیں گے.

بات یہ ہے کہ یہ سب لائم لائٹ میں رہنے اور حصول شہرت کے طریقے ہیں مومنین فی سبیل اللہ مارے جاتے ہیں،بھیا توبہ بحضور کیمرا اور یوٹیوب کیا جاتا ہے؟ ٹھیک ہے گناہ ہر انسان سے ہوتا ہے،اس کے لئے توبہ ہے،توبہ تمہارا اور تمہارے رب کے درمیان کا معاملہ ہے اپنے توبے کو سوشل میڈیا میں کیش کروانے اور لائکس و کمنٹس سمیٹنے کا ذریعہ بنانے کا یہ انتہائی سطحی اور سستا طریقہ کیوں؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.