fbpx

جمہوریت کے نام پرلسانی حکومت نے عوام کے بنیادی حقوق پرڈاکہ ڈالا:احتجاج کریں گے:سید مصطفیٰ‌ کمال

کراچی :پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ اہلیان کراچی جمہوریت کے پردے میں بدترین لسانی حکومت کے خلاف 30 جنوری کو فوارہ چوک سے وزیر اعلیٰ ہاؤس تک مارچ کریں گے تاکہ ہم اپنے ساتھ اپنے سندھی بھائیوں کو بھی پیپلز پارٹی کے ظلم سے نجات دلاسکیں۔ بدکار و ظالم حکمران 30 جنوری کو جان جائیں گے کہ جب باکردار اور قابل قیادت سامنے کھڑی ہوجائے تو ظالم کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور پیپلز پارٹی کے ظلم کا وقت اب ختم ہوتا ہے۔ بس اب اس شہر کا ہر آدمی باہر نکلے چاہے وہ پنجابی، پختون، بلوچ، سندھی، سرائیکی، مہاجر ہوں سب کو نکلنا ہوگا،

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاوس میں مرکزی شعبہ جات کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سید مصطفی کمال نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے عددی اکثریت کی بنیاد پر نئے بلدیاتی ترمیمی قانون کے زریعے اپنا الیکشن کمیشن بنا رکھا ہے جو کہ آرٹیکل 140(2)A کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس سے قبل 2013 کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے لفظ پاکستان ہٹا دیا تھا اور آج پیپلز پارٹی نے 2021 کے ترمیمی ایکٹ سے پورا الیکشن کمیشن کا لفظ ہی نکال دیا ہے جبکہ نئے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی قانون کو پیپلز پارٹی اسمبلی میں پیش کیے بغیر محض ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے لوکل گورنمنٹ قانون میں مزید تبدیلی کرسکے گی جو اس آئین پاکستان کیساتھ بھونڈا مذاق ہے جو خود پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے دیا تھا۔

سید مصطفیٰ‌ کمال نے کہا کہ پیپلز پارٹی صوبائی وزارتوں کے ساتھ ساتھ اب شہری حکومت کے اوپر بھی قبضہ کر رہی ہے۔2001 میں بلدیاتی حکومت کے اختیار میں 47 محکمے تھے لیکن اب صرف 21 رہ گئے ہیں۔ ایک ایک کرکے سارے محکمے سندھ حکومت قبضہ کر چکی اور ان تمام محکموں کو کرپشن کا گڑھ بنا دیا ہے۔ سندھ میں 70 لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں جو کئی ممالک کی کل آبادی سے زیادہ ہیں، پیپلز پارٹی نے صرف تعلیم کی مد میں 2300 ارب روپے خرچ کیے، آج سندھ میں ہزاروں گھوسٹ اسکولز اور لاکھوں گھوسٹ ٹیچرز ہیں جسے تمام بین الاقوامی ایجنسیوں نے رپورٹ کیا۔

نئے تعلیمی ادارے کھلنے کے بجائے سرکاری اسکولوں کو بند کیا جارہا، سندھ میں سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کو فلاحی اداروں کو ٹھیکے پر دیا جارہا ہے۔ سندھ میں ایک نئی لائن پینے کے پانی کی نہیں ڈالی گئی، کراچی کے شہری سے لیکر تھر پارکر کے دیہی علاقوں تک لوگ بوند بوند پانی کو ترس رہے، پاک سر زمین پارٹی پاکستان کو بچانے کی خاطر جہاد کررہی ہے اور اپنے خون کا آخری قطرہ تک گرائے گی۔