fbpx

لودھراں میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ،پولیس کا کاروائی سے گریز

لودھراں میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ،پولیس کا کاروائی سے گریز

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ایک طرف زیادتی کے واقعات نہ رک سکے دوسری جانب پولیس بھی کاروائی کرنے سے گریز کرنے لگ گئی

پنجاب کے شہر لودھراں میں خاتون کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا، پولیس کو اطلاع دی گئی تو پولیس نے کاروائی کرنے کی بجائے خاتون کو گالیاں دیں، لودھراں محلہ فخر آباد لودھراں میں شادی شدہ خاتون سے اغواء کے بعد مبینہ زیادتی ہوئی پولیس موقع پر پہنچنے کے بعد خاتون کو غلیظ گالیاں دے کر واپس چلی گئی، مذکورہ محلے میں معمولی تلخ کلامی کے بعد چار افراد نےسڑک پر جاتی نوجوان شادی شدہ خاتون ن ب کو اغوا کیا اور اپنے گھر لے جا کر مبینہ اجتماعی زیادتی اور تشدد کا وحشیانہ کھیل رچایا

پولیس کے ایمرجنسی نمر 15 پر کی جانے والی کال کے بعد تھانہ سٹی لودھراں کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر دائم گجر نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے ،اطلاعات کے مطابق سینکڑوں اہل علاقہ کے موجود ہونے، گواہی ملنے اور زخمی خاتون کو تقریباً برہنہ حالت میں سڑک پر بے ہوش پڑے دیکھنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی، پولیس جب واپس جانے لگی تو اہل علاقہ نے احتجاج کیا، متاثرہ خاتون کی والدہ اورعلاقہ کے دیگر لوگ پولیس موبائل کے آگے لیٹ گئے اور احتجاج کیا کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے تو پولیس نے خواتین کا لحاظ کئے بغیر ماں بہن کی غلیظ گالیاں سرعام دیں اور موقع سے چلے گئے

اہل علاقہ نے پولیس کے اس رویئے پر احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ پولیس کو رویہ بدلنے کی ضرورت ہے، زیادتی کا شکار خاتون کو دیکھ کر بھی پولیس نے کوئی کاروائی نہیں کی، مقدمہ درج نہیں کیا کوئی بات نہیں سنی اور جائے وقوعہ سے ہو کر چلے گئے ،اہلیان علاقہ نے آئی جی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، بعد ازاں پولیس پارٹی دوبارہ میڈیا کے آنے اور عوام کے شدید احتجاج کے بعد موقع پر پہنچی اور زیادتی کا شکار خاتون کو ہسپتال منتقل کیا گیا

ماں بیٹی سے زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی

لاہور میں رواں برس جنسی زیادتی کے 369 کیسز، کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ مل سکی

لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

شادی کا جھانسہ ، ویڈیو بناکر زیادتی اور پھر بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار

واضح رہے کہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں خاتون صحافی کے ساتھ ہراسانی کا واقعہ گزشتہ روز پیش آیا تھا ،خاتون صحافی کام کے لئے جا رہی تھی کہ راستے میں اوباش نوجوانوں نے آوازیں کسنا شروع کر دیں، اور نازیبا حرکات کیں واقعہ کا مقدمہ تھانہ شاہدرہ میں درج کر لیا گیا ہے، درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ خاتون کو دفتر لے کر آتا جاتا ہوں دس بجے دفتر چھوڑنے جا رہا تھا کہ راوی پل پر رش تھا ، اسی اثنا میں دو لڑکے بائیک پر آئے اور نازیبا حرکات شروع کر دیں،آوازیں کسیں، بدتمیزی کی، میرے منع کرنے کے باوجود وہ باز نہ آئے اور مجھے بھی گالم گلوچ کی