مریم نواز مکر گئی،جھوٹ پہ جھوٹ، کیا ن سے ش نکلنے والی ہے؟ تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

0
42

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عسکری و سیاسی قیادت کی خوشگوار ماحول میں بیٹھک کے بعد نواز شریف تنہا ہو گئے ہیں کیونکہ انکے بیانئے کی کسی نے تائید نہیں کی کہ ہماری لڑائی عمران خان نہیں بلکہ انکے لانے والوں کے ساتھ ہے، پتہ نہیں انکا اشارہ عمران خان کے ڈرائیور کی طرف ہے یا کسی اور کی طرف ،بحرحال فوج کی جانب سے واضح ہو گیا کہ سیکورٹی اور قومی سلامتی کے حوالہ سے اپنا بھر پور کردار ادا کرے گی

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن الیکشن کمیشن، چیئرمین نیب کی تقرری یا آئین میں تبدیلی میں کوئی کردار نہیں، یہ سب سیاسی قیادت نے کرنا ہے، اندر کی خبر دینے والوں کا یہ کہنا ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت کے مابین جو ملاقات ہوئی،اس میں بلاول یا شہباز نے یہ نہیں کہا کہ عمران خان کو فوج لائی،اور نہ ہی الیکشن میں دھاندلی کا کوئی ذکر کیا گیا البتہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کھل کر بتا دیا کہ فوج ہمیشہ منتخب حکومت کے ساتھ کھڑی ہو گی، چاہے وہ کسی بھی جماعت کی ہو گئی

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز تو صاف مکر گئی کہ نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی،پتہ نہیں، شہباز شریف نے مریم کو بتایا بھی ہے یا کہ نہیں، انکا سیاست میں اصل تجربہ ہی رات کے اندھیروں میں مقتدر حلقوں سے ملاقات کا ہے،یہ ملاقات تو اعلانیہ ہوئی، یہ بھی پتہ نہیں کہ مریم نواز اپنے چچا شہباز اور خواجہ آصف کو ن لیگ کاحصہ بھی سمجھتی ہیں یا نہیں، دوسری جانب شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ن لیگی رہنما احسن اقبال اور خواجہ آصف کی آرمی چیف سے ون آن ون ملاقات کی، سب نے اکٹھی بھی ملاقات کی اور کھل کر بات ہوئی، ایک دن پہلے بھی ملاقات ہوئی تھی، ن لیگ کی دو ماہ میں دو ملاقاتیں ہوئیں، شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ایک ملاقات میں شہباز شریف اور میں ایک ٹیبل پر موجود تھے

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مگر معاملہ مزید گھمبیر ہو گیا جب احسن اقبال نے آرمی چیف سے ملاقات کی تردید کر دی، انکا کہنا تھا کہ شیخ رشید نے ون آن ون ملاقات کی بات کی ہے تو انہوں نے جھوٹ بولا، چھوڑیں انکو جھوٹ بولنا مریم اور انکے پاپا کا شیوہ رہا ہے،یہ تو کچھ بھی نہیں مکرے یہ لوگ، نواز شریف نے جب باہر جانا تھا تو کیسے کیسے آسکر ایوارڈ یافتہ پرفارمنس ن لیگ کی جانب سے پیش کی گئی، آرمی چیف نے شہباز شریف اور بلاول کی موجودگی میں تو یہ بھی کہہ دیا کہ آپکی حکومت بنتی ہے تو فوج ساتھ کھڑی ہو گی، عسکری قیادت کی دوراندیشی قابل داد ہے، عین اے پی سی سے کچھ دیر پہلے انہوں نے سیاسی قیادت سے ملاقات کر کے اپنی پوزیشن کلیئر کر دی، کیونکہ خدشہ تھا کہ اس کانفرنس میں فوج کے خلاف بات ہو سکتی تھی،اسکا پہلے ہی علاج کر لیا گیا، صرف نواز شریف کی تقریر فوج کے مخالف ثابت ہوئی، وہ تقریر ریکارڈ کی گئی تھی جوں کی توں چل گئی، جس سے واضح ہو گیا کہ نواز فوج کے خلاف بھرے بیٹھے ہیں ،یہ کسی صورت ن لیگ کے لئے ٹھیک نہیں ، بہت سے ن لیگی تو اب منہ چھپائے پھر رہے ہیں کہ وہ جائیں توکدھر جائیں

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فی الحال بال اپوزیشن کی کورٹ میں ہے کہ وہ کس طرح حکومت مخالف تحریک کو منظم کرتی ہے، اب غیر آئینی طریقے سے حکومت بدلنے کا راستہ بند ہو گیا، اب چھڑی گھما کر وزیراعظم کو گھر بھیجنے کی روایت ختم ہو گئی،اپوزیشن احتجاج، دھرنا دیتی ہے، لانگ مارچ کرتی ہے تو اسکا نتیجہ وہ نہیں نکلے گا جو ماضی میں نکلتا تھا، اب حکومت کو احتجاج کے ذریعے فارغ نہیں کیا جا سکتا، حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو وزیراعظم بنانے میں نواز شریف اور آصف زرداری کی ناکامیوں کا کردار ہے، وہ دونوں میثاق جمہوریت پر ہی عمل کر لیتے، مقتدر طاقتوں کو صحیح انداز میں ڈیل کرتے تو عمران خان کبھی وزیراعظم کا آپشن نہ بنتے، میثاق جمہوریت سے انحراف کس نے کیا، لیکن دو رائے نہیں کہ دونوں نے میثاق جمہوریت کو مذاق جمہوریت میں بدل دیا، اسوقت بھی صورتحال ویسی ہے جیسی پچھلے دور میں تھی

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دھرنا دے رہی تھی لیکن کے پی اسمبلی توڑنے کے لئے تیار نہیں تھی ،موجودہ اپوزیشن بھی اسی طرح چل رہی ہے، سو جلسوں اور دھرنوں سے حکومت اتنی نہیں ہل سکتی جتنی تمام اپوزیشن کے استعفوں سے ہل جائے گی،یہ لوگ کچھ بھی کر لیں لیکن اگر استعفے نہیں دیتے تو قوم ماضی کے تجربات کی بنیاد پر اپوزیشن کے بارے میں شک کا اظہار کرتی رہے گی، عمران خان بیلٹ باکس کے ذریعے اقتدار میں آئے، کرپشن کے خاتمے، کرپٹ عناصر کے خلاف سخت کاروائی کے لئے ووٹ ملا، عمران خان بتاتے ہیں کہ اس ملک میں مافیا سرگرم ہے جن پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں،تو اس مقصد کی نفی ہوتی ہے، جس کے لئے عوام نے عمران کو ووٹ دیئے، جن کے بھتیجے بھانجے نیب ،ایف آئی اے کی پیشیاں بھگت رہے ہیں ،بہن بھائی نیب پیشیاں بھگت رہے ہیں، انکا احتساب ہوتا ہے یا نہیں، ابھی انکو دنوں اور گھنٹوں کے حساب سے ضمانتیں مل رہی ہیں،یقینا یہ حکومت کے لئے پریشانی کا سبب ہے.

Leave a reply