یورپی یونین کے صدر نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی سے خبردار کیا

0
31

یورپی یونین کے صدر نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی سے خبردار کیا

باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق یورپی کونسل کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے میں اعلیٰ ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عراق کے اندر صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔ یورپی کونسل کے صدر برسلز میں یورپی یونین کے رہنماؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

بیلجیئم کے سابق وزیر اعظم چارلز مائیکل کا کہنا تھا کہ ’’عراق میں جاری تشدد، اشتعال انگیزیوں اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہئے۔‘‘سمندر پار ایرانی سبوتاژ کارروائیوں کی ذمہ داری القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے فوری بعد اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مسٹر مائیکل نے یہ بات زور دے کر کہی کہ کشیدگی میں مزید اضافے کو ہر قیمت پر روکنا جانا چاہیے۔چارلز مائیکل نے براہ راست امریکی حملے کے ذکر سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ عراق کے اندر بد امنی میں قاسم سلیمانی کی زیر کمان القدس فورس کی حمایت یافتہ متعدد عراقی ملیشیاؤں کا ہاتھ ہے۔
واضح رہے کہ 30 دسمبر کو بھی امریکی فوج نے عراق اور شام میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا پر فضائی حملے کیے تھے، امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کے مطابق کتیب حزب اللہ کے اسلحہ ڈپو سمیت 5 ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے۔ ایران کے خلاف مزید اقدامات کا عندیہ دیتے ہوئے مارک ایسپر نے کہا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف مزید کارروائیوں کے لیے بھی تیار ہے۔

امریکی حملے میں ایران کے قاسم سلیمانی،عراقی ملیشیا کے کمانڈر جاں بحق، ایران نے دیا امریکہ کو سخت ردعمل

قاسم سلیمانی کو ٹرمپ کی ہدایت پر مارا گیا، پینٹا گون، ٹرمپ نے کیا کہا؟

ایرانی جنرل کو مارنے کے بعد امریکہ نے دی شہریوں کو اہم ہدایات

جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت، امریکہ نے خطے کا امن داؤ پر لگا دیا، ایسا کس نے کہا؟

ایرانی جنرل پر امریکی حملہ، چین بھی میدان میں آ گیا، بڑا مطالبہ کر دیا

بغداد میں امریکی حملے پر ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی پر حملہ عالمی دہشت گردی ہے، امریکا کو اس حرکت کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس حملے کو عالمی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ معابلے پر ایران میں ٹاپ سیکورٹی باڈی کا فوری اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے

Leave a reply