مسجد میں بیہودہ گانے کی شوٹنگ ،ماڈلنگ اور شادی فوٹو شوٹ،خدارا تقدس پامال نہ کریں تحریر: محمد عاصم حفیظ

مسجد میں بیہودہ گانے کی شوٹنگ ۔ ماڈلنگ اور شادی فوٹو شوٹ ۔۔ خدارا تقدس پامال نہ کریں

(ذرا سی بات ۔ محمد عاصم حفیظ)
لاہور کی تاریخی جامع مسجد وزیر خان کے تقدس کو ایک پرائیویٹ پروڈکشن ہاؤس کی جانب سے گانے کی شوٹنگ کرکے پامال کیا گیا ہے ۔ مساجد جو کہ اللہ کا گھر اور عبادت کے لئے ہیں وہاں پر یوں فحش گانے کے ویڈیو شوٹ سے بڑھ کر گھٹیا حرکت اور کیا ہو گی ۔ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی بے حسی اور لاپرواہی کی انتہا ہے ۔ اس سے پہلے سنجیدہ حلقے بادشاہی مسجد ۔ فیصل مسجد اسلام آباد مسجد وزیر خان سمیت دیگر تاریخی مساجد میں فوٹو شوٹس کے حوالے سے سراپہ احتجاج رہے ہیں لیکن انتظامیہ معمولی آمدن کے لالچ میں ان عبادت گاہوں کا تقدس پامال کرتی رہی ہے ۔ المیہ تو یہ بھی ہے ایک طرف تو مساجد و عبادت گاہوں میں کرونا کی وجہ سے ایس او پیز پر سختی سے عمل کرایا جا رہا ہے ۔ نمازیوں کے لیے فاصلے اور ماسک کی پابندی ضروری ہے لیکن انہی مساجد میں گانوں کی اجازت دی جا رہی ہے ۔ایک خاص تعداد سے زائد نمازی نہیں جا سکتے لیکن ویڈیوز ریکارڈنگ ٹیم کو مساجد میں گھسنے کی اجازت ہے ۔ روک ٹوک کا کوئی قانون ضابطہ ہی نہیں ۔ افسوس تو یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں فورسز کی وردی میں سوشل میڈیا ویڈیو پر نوکری ختم ہو سکتی ہے کیونکہ وردی کی توہین کی ۔ کسی ادارے کے بارے پوسٹ پر گرفتاری ہو جاتی ہے ۔ سیاسی لیڈر کے بارے اظہار خیال پر بھی قانون حرکت میں آتا ہے لیکن مساجد کے تقدس کی پامالی ۔ شعائر اسلام کی توہین اور عبادات و دینی تہواروں کا مزاق اڑانے یا ان پر فحاشی و عریانی پھیلانے پر کوئی ایکشن نہیں ہوتا۔
کیا آپ نے دنیا میں کوئی ایسی قوم دیکھی ہو گی کہ جو اپنے مذہبی مقامات ۔ مقدس جگہوں ۔ عبادات کے مراکز ۔اپنی مذہبی روایات ، دینی شعائر اور روحانی اقدار کو بھی طنز ومذاق ، فحاشی اورتفریح کی نظر کر دے ۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے رمضان المبارک میں جس طرح فلمی دنیا کے ستاروں سے مذہبی پروگرامز ، کوئز شوز اور ہلے گلے والے شوز کرائے جاتے ہیں ۔جبکہ عبدالاضحی اور قربانی جو کہ سنت ابراہیمی ؑ اور نبی اکرمﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں ایک خالص دینی فریضہ ہے اسے نمود و نمائش ، جانوروں کی سج دھج اور طرح طرح کے پکوان تیار کرنے کی پہچان بنا دی گئی ہے ۔ کمرشل ازم کے تحت ہر مذہبی تہوار۔ مقام اور شعائر اسلام تک کو اشتہار بازی ۔ فحش ویڈیوز اور فوٹو گرافی کے لیے استعمال کرنے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ دوسری جانب بادشاہی مسجد لاہور ۔ بحریہ ٹاؤن گرینڈ مسجد اور فیصل مسجد اسلام آباد میں نکاح کو ایک رسم بنا دیا گیا ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ چند منٹوں کے نکاح کے بعد اسی مسجد میں مکمل پروفیشنل فوٹوگرافی اور ویڈیو شوٹنگ کا اہتمام کیا جانے لگا ہے ۔اس شوٹنگ اور دوسرے الفاظ میں ” ماڈلنگ ” کی بھرپور تیاری کی جاتی ہے ۔ مختلف پوز بنا کر ایک ماہر فوٹو گرافر یا پروڈیوسر کی زیر نگرانی یہ مراحل مکمل ہوتے ہیں ۔ دولہا دلہن ان یادگار لمحات کے لئے مکمل طور پر میک اپ ۔ ویل ڈریسنگ میں آتے ہیں ۔ اور اب بات اس سے بڑھ کر گانوں کی شوٹنگ تک پہنچ چکی ہے ۔

خدارا مساجد کے تقدس کا خیال رکھیں ۔ آپ کے پاس دولت کے انبار ہوں گے اور بے پناہ اختیارات کون آپ کو روک سکتا ہے لیکن طاقت کے اس نشے میں اگر ان مقدس مقامات کو نہ ہی روندا جائے تو بہتر ہے ۔ مساجد نماز و عبادت کے لئے ہیں انہیں گانوں کی ریکارڈنگ۔ ماڈلنگ ۔ فوٹوگرافی اور ویڈیو شوٹنگ کی جگہیں نہ بنایا جائے ۔ خدارا مساجد کے تقدس کا خیال کریں۔ حکومت اور انتظامیہ کا بھی فرض ہے کہ مساجد کی بے حرمتی پر ہوش کے ناخن لیں اور کسی بھی قسم کے ویڈیو یا فوٹو شوٹ کی اجازت نہ دی جائے ۔ مساجد کا تقدس معمولی آمدن سے کہیں زیادہ قیمتی ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.