مسرور انور کی 27 ویں برسی

0
36

ساٹھ اور 70 کی دہائی میں پاکستان فلم انڈسٹری اپنے عروج پر تھی ، اور اس عروج میں جہاں فنکاروں کی بہترین اداکاری کا ہاتھ تھا وہیں بہترین میوزک ایک بہت بڑی وجہ تھی کہ شائقین فلمیں دیکھنے کےلئے سینما گھروں کا رخ کیا کرتے تھے. ایک ایسے ہی نغمہ نگار اور لکھاری تھے مسرور انور جن کے لکھے ہوئے گیتوں نے ایک زمانہ اپنے سحر میں مبتلا کیا.آج ان کی 27 ویں برسی منائی جا رہی ہے. مسرور انور نے کئی سپر ہٹ گیت لکھے. گیت لکھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے متعدد فلموں کے سکرپٹ‌اور مکالمے بھی تحریر کئے. انہوں نے 1962 میں ریلیز ہونے والی فلم بنجارن کے گیت لکھے جو کہ زبان زد عام ہوئے . مسرور انور نے وحید مراد کے ساتھ مل کر ’’فلم آرٹس‘‘ کے نام سے ایک نیا پروڈکشن ہائوس بھی بنایا اس کے تحت بہت ساری سپر ہٹ فلمیں بھی بنیں. فلم آرٹس کی پہلی فلم

’’ہیرا اور پتھر‘‘ کا سکرپٹ اور نغمات مسرور انور نے لکھے اور موسیقی سہیل رعنا نے ترتیب دی۔ اس کے بعد ارمان بنی اس کے گیتوں نے شائقین کو اپنا دیوانہ بنا لیا اس فلم کا ہر گیت آج بھی زبان زد عام ہے. اس کے بعد بے شمار فلمیں (ہیرا اور پتھر، ارمان، احسان، دوراہا، دل میرا دھڑکن تیری، عشق حبیب، پھول میرے گلشن کا، جب جب پھول کھلے، محبت زندگی ہے، صاعقہ، قربانی، تلاش اور ہم دونوں) بنیں اور مسرور انور نے سکرپٹ لکھنے کے ساتھ گیت بھی لکھے. مسرور انور نے بھرپور کامیاب زندگی گزاری لیکن 1996 کو اج ہی کے دن اپنے مداحوں کو سوگوار چھوڑ‌ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے.

Leave a reply