مہناز بیگم کو مداحوں سے بچھڑے7برس بیت گئے

0
29

دلکش،مدھر اور سریلی آواز رکھنے والی پاکستان کی نامور گلوکار ہ مہناز بیگم کو مداحوں سے بچھڑے7 برس بیت چکے ہیں اور آج ان کی برسی منائی جارہی ہے

مہناز کااصل نام کنیز فاطمہ تھا 1958ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں انہیں مہناز کا نام ان کے استاد امراؤ بندوخان کے بھتیجے نذیر نے دیا گلوکارہ نے موسیقی کی تربیت مہدی حسن کے بڑے بھائی پنڈت غلام قادر سے حاصل کی

جبکہ انہیں پاکستان ٹیلیوژ ن کے پروگرام نغمہ زار کے ذریعے عوام سے متعارف کروانے والے امیر امام ہیں جس کے بعد مشہور موسیقار اے حمید نے مہناز کو فلمی دنیا میں آنے کی دعوت دی

ہدایتکار نذرالاسلام کی فلم حقیقت مہناز کی بطور گلوکارہ ریلیز ہونے والی پہلی فلم تھی جس کے بعد کم وقت میں ہی مہناز فلمی دنیا کی مقبول ترین آواز بن گئیں اور فلمی صنعت کا ہر موسیقار مہناز کی آواز کو اپنی فلم میں شامل کرنا اپنا اعزاز سمجھتا تھا

گلوکارہ نے ساڑھے تین سو سے زیادہ فلموں کے لیے پانچ سو سے زیادہ نغمات ریکارڈ کروائے حکومت پاکستان نے موسیقی کے شعبے میں مہناز کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازاعلاوہ ازیں انہیں ان کی گائیگی پر اور بھی متعدد اعزازات سے نوازا گیا

جن میں دس نگار ایوارڈ، دو نیشنل ایوارڈ، سات گریجویٹ ایوارڈ اور ایک پی ٹی وی ایوارڈ شامل ہیں مہناز نے 1977ء سے 1983ء تک مسلسل سات سال تک نگار ایوارڈ حاصل کر کے ایک منفرد اعزاز اپنے نام کیا

مہناز طویل عرصے سے ہائی بلڈ پریشر اور پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا تھیں 19 جنوری 2013ء کو وہ اپنے علاج کے لیے پاکستان سے امریکا جارہی تھیں کہ اچانک راستے میں ان کی طبیعت خراب ہوگئی جہاز کو ہنگامی طور پر بحرین میں اتارا گیا اور انہیں فوری طور پر ہسپتا ل پہنچایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکیں اور اپنے خالق حقیقی سے جاملیں

Leave a reply