fbpx

زمینی میملز کی نصف سے زائد انواع میں پلاسٹک ذرات کے آثار

لندن: سمندری جانداروں اور انسانوں کے بعد اب زمینی چھوٹے میملز کی نصف سے زائد انواع میں اب پلاسٹک کے آثار پائے گئے ہیں۔

باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق برطانوی ماہرین نے مختلف مقامات پر مختلف غذائیں کھانے والے ممالیوں کا جائزہ لیا اور ان کی نصف سے زائد تعداد میں پلاسٹک کے ذرات ملے ہیں جو ان کے فضلے میں بھی خارج ہو رہے تھے۔

تحقیق سے وابستہ پروفیسر فیونا میتھیوز نے جامعہ سسیکس کے شعبہ ماحولیات کے تحت یہ اہم مطالعہ کیا ہے جس کے مطابق جنگلی حیات کے فضلے سے معلوم ہوا ہے کہ پلاسٹک ایسے مقامات تک بھی پہنچ چکا ہے جو انسانوں سے دور ہے جنگلوں میں موجود چھوٹے ممالیے بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

برطانیہ میں سات مقامات سے چھوٹے ممالیوں کے فضلے کے کل 261 نمونے لیے گئے اور انفراریڈ مائیکرو اسکوپی سے ان کا جائزہ لیا گیا اس طرح سات میں سے چار انواع میں پالیمر طرز کا پلاسٹک موجود تھا ان میں یورپی خارپشت، کئی اقسام کے چوہے اور دیگر جاندار شامل تھے۔

دوسرے مطالعے میں شہری علاقوں کے پاس رہنے والے جانوروں میں مائیکروپلاسٹک کی غیرمعمولی مقدار دیکھی گئی خواہ وہ سبزہ خور، ہمہ خور تھے یا صرف گوشت خور ممالیے تھے۔

ماہرین نے اس رحجان پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ یورپی خارپشت کی تعداد برطانیہ میں تیزی سے کم ہورہی ہے تاہم پلاسٹک سے جانوروں میں کمی کے تعلق پر مزید تحقیق اور ثبوت جمع کرنا باقی ہیں جاندار پلاسٹک کھارہے ہیں اور پرندے پلاسٹک سے اپنے گھونسلے بنارہے ہیں۔