fbpx

فشریز ڈپارٹمنٹ کے تعاون سے کینجھر جھیل میں کروڑوں کی تعداد میں مچھلی کا بیج چھوڑا گیا۔

ٹھٹھہ،باغی ٹی وی ( نامہ نگار راجہ قریشی)فشریز ڈپارٹمنٹ کے تعاون سے کینجھر جھیل میں کروڑوں کی تعداد میں مچھلی کا بیج چھوڑا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت ای ای پی فشريز ڈپارٹمنٹ کے تعاون سے پچھلٕے چار سالوں سے کینجھر جھیل میں کروڑوں کی تعداد میں مچھلی کا بیج چھوڑا جارہا ہے اور WWF اور فشریز کے تعاون سے کینجھر کنرزرویشن نیٹ ورک نے کینجھر جھیل کے داخلی اور خارجی بیراجوں پر جال لگا کر جھیل سے زائع ہونے والی مچھلیوں کو محفوظ کر رکھا ہے جسکی وجہ سے کینجھر کے ماہیگیروں کے روزگار میں خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے لیکن افسوس چند ماہیگیر دشمن عناصر پچھلے چھ ماہ سے بولو گھجو، گھائو، بنگالی ٹائپ کے غیر قانونی نقصان دہ جال لگا کر مچھلیوں کی نسل کشی کر رہے ہیں جس کی اطلاع فشریز کے اعلیٰ افسران کو دی گئی ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز ٹھٹہ فقط بل بنارہا ہے DG فشریز نے نوٹس لیا اور حکم جاری کیا کہ فوراً غیر قانونی جھال کے خلاف آپریشن کیا جائے جس پر غلام مصطفیٰ میمن نے غصے میں آکر KCN کے رضاکار ماہیگیروں کے لیگل جال چھین کر لے گیا ہے جبکہ چھ ماہ سے جھیل کو تباہ کرنے والوں کو جان بوجھ کر چھوٹ دی جارہی ہے اور KCN کے ممبران ماہیگیروں کے لائسنس بنانے سے انکار کر رہا ہے اور کینجھر کے ماہیگیروں سے لائسنس کی مد میں ایک دو ہزار مزید مانگ رہا ہے کینجھر کنزرویشن نیٹ ورک کے رہنماء انیس ھیلایو، ارشاد عمر گندرو، سید بچل شاھ کاظمی، ابراہیم گندرو، غلام نبی گندرو، عبد الرؤف پالاری، عبدالغفور گندرو، موسیٰ منچھری، ساجد علی گندرو، محسن علی گندرو، سلیم گندرو اور دیگر نے ڈی جی فشریز ڈائریکٹر ان لینڈ فشریز ڈی سی ٹھٹہ اور ديگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہوۓ کہا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ٹھٹہ کو ہٹا کر کوئی فرض شناس افسر کو لا کر کینجھر کو بچایا جاۓ۔