مرزا یاس یگانہ چنگیزی برصغیر کے معروف شاعر

0
40

گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں
سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

مرزا یاس یگانہ چنگیزی اپنے معاصرین میں اپنی شاعری کے نئے رنگوں اور دکھ درد کی بے شمار صورتوں میں لپٹی ہوئی زندگی کے سبب سب سے الگ نظر آتے ہیں۔ یگانہ کا نام مرزا واجد حسین تھا پہلے یاس تخلص کرتے تھے بعد میں یگانہ تخلص اختیار کیا۔ ان کی پیدائش 17 اکتوبر 1884ء کو محلہ مغلپورہ عظیم آباد میں ہوئی۔

1903 میں کلکتہ یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ تنگیِ حالات کے سبب تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رکھ سکے۔ 1904ء میں واجد علی شاہ کے نواسے شہزادہ میرزا محمد مقمیم بہادر کے انگریزی کے اتالیق مقرر ہوئے۔ مگر یہاں کی آب وہوا یگانہ کو راس نہیں آئی اور وہ عظیم آباد لوٹ آئے۔

عظیم آباد میں بھی ان کی بیماری کا سلسلہ جاری رہا اس لئے تبدیلی آب وہوا کے لئے 1905ء میں انھوں نے لکھنؤ کا رخ کیا۔ یہاں کی آب وہوا اور اس شہر کی رنگا رنگ دلچسپیوں نے یگانہ کو کچھ ایسا متأثر کیا کہ پھریہیں کے ہورہے، یہیں شادی کی اور یہیں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیں۔ تلاش معاش کیلئے لاہور اور حیدرآباد گئے بھی گئے لیکن لوٹ کر لکھنؤ ہی آئے۔

ابتدائی کچھ برسوں تک تو یگانہ کے تعلقات لکھنؤ کے شعراء وادباء کے ساتھ خوشگوار رہے، انہیں مشاعروں میں بلایا جاتا اور یگانہ اپنی تہہ دار شاعری اور خوش الحانی کی بنا پر خوب داد وصول کرتے لیکن دھیرے دھیرے یگانہ کی مقبولیت لکھنوی شعراء کو کھلنے لگی۔ وہ یہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ کوئی غیرلکھنوی لکھنؤ کے ادبی معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جانے لگے۔ اس لیے یگانہ کے خلاف سازشیں شروع ہوگئیں۔ ان کے لیے معاشی مشکلیں پیدا کی جانے لگیں۔ اس دشمنی کی انتہا تو اس وقت ہوئی جب یگا نہ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں کچھ ایسی رباعیاں کہہ دی تھیں جن کی وجہ سے سخت مذہبی خیالات رکھنے والوں کو تکلیف ہوئی۔

اس موقع کا فائدہ اٹھا کریگانہ کے مخالفین نے ان کے خلاف ایسی فضا تیار کی کہ مذہبی جوش وجنون رکھنے والے یگانہ کو لکھنؤ کی گلیوں میں کھیچ لائے، چہرے پر سیاہی پوت کران کا جلوس نکالا اور طرح طرح کی غیرانسانی حرکتیں کیں۔لکھنؤ کے اس ادبی معاشرے میں یگانہ کیلئے سب سے بڑا مسئلہ اس سوچ کے خلاف لڑنا تھا جس کے تحت کوئی فرد یا گروہ زبان وادب اور علم کو اپنی جاگیر سمجھنے لگتا ہے۔

یگانہ کی شاعری کی داستان لکھنؤ میں کی جانے والی ایک ایسی شاعری کی داستان ہے جو وہاں کی گھسی پٹی اور روایتی شاعری کو رد کرکے فکر وخیال اور زبان کے نئے ذا ئقوں کو قائم کرنے کی طرف مائل تھی۔ لکھنؤ میں یگانہ کے معاصرین ایک خاص انداز اور ایک خاص روایت کی شاعری کی نقل اڑانے میں لگے ہوئے تھے۔ ان کے یہاں نہ کوئی نیا خیال تھا اور نہ ہی زبان کا کوئی نیا ذائقہ وہ داغ و مصحفی کی بنائی ہوئی لکیروں پر چل رہے تھے۔

لکھنؤ میں یگانہ کی آمد نے وہاں کے ادبی معاشرے میں ایک ہلچل سی پیدا کردی۔ یہ ہلچل صرف شاعری کی سطح پر ہی نہیں تھی بلکہ یگانہ نے اس وقت میں رائج بہت سے ادبی تصورات ومزعومات پر بھی ضرب لگائی اور ساتھ ہی لکھنو کے اہلِ زبان ہونے کے روایتی تصور کو بھی رد کیا۔ غالب کی شاعری پر یگا نہ کے سخت ترین اعتراضات بھی اس وقت کے ادبی ماحول میں حد سے بڑھی ہوئی غالب پرستی کا نتیجہ تھے۔

یگانہ کی شاعری آپ پڑھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ وہ زبان اور خیالات کی سطح پر شاعری کو کن نئے تجربوں سے گزار رہے تھے۔ یگانہ نے بیسوی صدی کے تمام تر تہذیبی، سماجی اور فرد کے اپنے داخلی مسائل کوجس انداز میں چھوا اور ایک بڑے سیاق میں جس طور پرغزل کا حصہ بنایا، اس طرح ان کے عہد کے کسی اور شاعرکے یہاں نظر نہیں آتا۔ یہی تجربات آگے چل کر جدید اردو غزل کا پیش خیمہ بنے۔

یگانہ کی کتابیں : شعری مجموعے : نشتر یاس، آیات وجدانی، ترانہ، گنجینہ۔ دیگر : چراغ سخن، غالب شکن۔

اشعار
۔۔۔۔۔
گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں
سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا
مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا

کشش لکھنؤ ارے توبہ
پھر وہی ہم وہی امین آباد

درد ہو تو دوا بھی ممکن ہے
وہم کی کیا دوا کرے کوئی

کسی کے ہو رہو اچھی نہیں یہ آزادی
کسی کی زلف سے لازم ہے سلسلہ دل کا

موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی
لے دعا کر چکے اب ترک دعا کرتے ہیں

واعظ کی آنکھیں کھل گئیں پیتے ہی ساقیا
یہ جام مے تھا یا کوئی دریائے نور تھا

سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا
سر پھرا دے انساں کا ایسا خبط مذہب کیا

خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہؔ مگر بنا نہ گیا

وہی ساقی وہی ساغر وہی شیشہ وہی بادہ
مگر لازم نہیں ہر ایک پر یکساں اثر ہونا

خدا جانے اجل کو پہلے کس پر رحم آئے گا
گرفتار قفس پر یا گرفتار نشیمن پر

دیوانہ وار دوڑ کے کوئی لپٹ نہ جائے
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھا نہ کیجئے

پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے
اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا

شربت کا گھونٹ جان کے پیتا ہوں خون دل
غم کھاتے کھاتے منہ کا مزہ تک بگڑ گیا
جیسے دوزخ کی ہوا کھا کے ابھی آیا ہو
کس قدر واعظ مکار ڈراتا ہے مجھے

پکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا
خدا تھے اتنے مگر کوئی آڑے آ نہ گیا

بتوں کو دیکھ کے سب نے خدا کو پہچانا
خدا کے گھر تو کوئی بندۂ خدا نہ گیا

کیوں کسی سے وفا کرے کوئی
دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی

پہنچی یہاں بھی شیخ و برہمن کی کشمکش
اب مے کدہ بھی سیر کے قابل نہیں رہا

غالب اور میرزا یگانہؔ کا
آج کیا فیصلہ کرے کوئی

مفلسی میں مزاج شاہانہ
کس مرض کی دوا کرے کوئی

کعبہ نہیں کہ ساری خدائی کو دخل ہو
دل میں سوائے یار کسی کا گزر نہیں

نہ دین کے ہوئے محسن ہم اور نہ دنیا کے
بتوں سے ہم نہ ملے اور ہمیں خدا نہ ملا

مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا
پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا

جھانکنے تاکنے کا وقت گیا
اب وہ ہم ہیں نہ وہ زمانہ ہے

پیام زیر لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیا
اشارہ پاتے ہی انگڑائی لی رہا نہ گیا

آ رہی ہے یہ صدا کان میں ویرانوں سے
کل کی ہے بات کہ آباد تھے دیوانوں سے

خدا ہی جانے یگانہؔ میں کون ہوں کیا ہوں
خود اپنی ذات پہ شک دل میں آئے ہیں کیا کیا

صبر کرنا سخت مشکل ہے تڑپنا سہل ہے
اپنے بس کا کام کر لیتا ہوں آساں دیکھ کر

دیر و حرم بھی ڈھ گئے جب دل نہیں رہا
سب دیکھتے ہی دیکھتے ویرانہ ہو گیا

مجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے
بہانہ کر کے تنہا پار اتر جانا نہیں آتا

باز آ ساحل پہ غوطے کھانے والے باز آ
ڈوب مرنے کا مزہ دریائے بے ساحل میں ہے

دور سے دیکھنے کا یاسؔ گنہ گار ہوں میں
آشنا تک نہ ہوئے لب کبھی پیمانے سے

دنیا کے ساتھ دین کی بیگار الاماں
انسان آدمی نہ ہوا جانور ہوا

مرتے دم تک تری تلوار کا دم بھرتے رہے
حق ادا ہو نہ سکا پھر بھی وفاداروں سے

نہ سنگ میل نہ نقش قدم نہ بانگ جرس
بھٹک نہ جائیں مسافر عدم کی منزل کے

دنیا سے یاسؔ جانے کو جی چاہتا نہیں
اللہ رے حسن گلشن ناپائیدار کا

رنگ بدلا پھر ہوا کا مے کشوں کے دن پھرے
پھر چلی باد صبا پھر مے کدے کا در کھلا

کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے
اک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہے

حسن ذاتی بھی چھپائے سے کہیں چھپتا ہے
سات پردوں سے عیاں شاہد معنی ہوگا

یگانہؔ وہی فاتح لکھنؤ ہیں
دل سنگ و آہن میں گھر کرنے والے

پردۂ ہجر وہی ہستئ موہوم تھی یاسؔ
سچ ہے پہلے نہیں معلوم تھا یہ راز مجھے

ساقی میں دیکھتا ہوں زمیں آسماں کا فرق
عرش بریں میں اور ترے آستانے میں

فردا کو دور ہی سے ہمارا سلام ہے
دل اپنا شام ہی سے چراغ سحر ہوا

یاسؔ اس چرخ زمانہ ساز کا کیا اعتبار
مہرباں ہے آج کل نا مہرباں ہو جائے گا

ہاتھ الجھا ہے گریباں میں تو گھبراؤ نہ یاسؔ
بیڑیاں کیونکر کٹیں زنداں کا در کیونکر کھلا

بے دھڑک پچھلے پہر نالہ و شیون نہ کریں
کہہ دے اتنا تو کوئی تازہ گرفتاروں سے

یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں
یادش بخیر بیٹھے تھے کل آشیانے میں

امتیاز صورت و معنی سے بیگانہ ہوا
آئنے کو آئنہ حیراں کو حیراں دیکھ کر

Leave a reply