مجھے نہیں لگتا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات سستی کر پائے گی. سینیٹر عبدالقادر

0
29

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کےاجلاس میں چیئرمین سینیٹر عبدالقادر کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات سستی کر پائے گی

چیئرمین سینیٹر عبد القادر کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس ہوا جس میں وزیر پیٹرولیم اور سیکریٹری موجود نہیں تھے۔ اجلاس میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات سستی کر پائے کیونکہ ابھی تو آگے جاکر حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی بھی لگانا ہے، آئی ایم ایف کو بجٹ میں 750ارب روپے پیٹرولیم سے بتائے گئے ہیں۔
چیئر مین کمیٹی نے سوال کیا کہ وزیر پیٹرولیم اور سیکریٹری کیوں نہیں آئے، پہلے بھی ہم نے اسی وجہ سے اجلاس ملتوی کیا تھا،آج بھی دونوں وزیر اور سیکریٹری نہیں ہیں ۔

حکام پیٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ وزیر مملکت پیٹرولیم مصدق ملک قطرمیں ہیں، سیکرٹری پیٹرولیم کو بخار ہے اور کورونا کی علامات ہیں،فدا محمد نے کہا کہ یہ سب بہانے ہوتے ہیں بخار کے، جب تک متعلقہ وزیر اورسیکر یٹری نہیں آتے اجلاس جاری نہ کیا جائے،عون عباس نے کہا کہ یہ سب مذاق بنایا گیا ہے۔

چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ ہمیں پیٹرولیم ڈویژن اور متعلقہ افسران کو سن لینا چاہیے،عون عباس نے کہا کہ اس سے کیا فرق پڑے گا،جواب میں چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ اجلاس کرلیتے ہیں، اراکین اپنا احتجاج ریکارڈ کرا دیں۔
سیف اللہ ابڑو نےکہاکہ سیکریٹری پیٹرولیم کو سمن کیا جائے، عون عباس نے اس موقع پر کہا کہ میں تو حاضری نہیں لگاؤں گا، ہم یہاں ٹی اے ڈی اے کے لیے نہیں آتے جس کے بعد وہ اجلاس چھوڑ کر چلے گئے تاہم اراکین کمیٹی عون عباس کو مناکر واپس لے آئے۔

اجلاس میں رکن کمیٹی فدا محمد نے کہا کہ دنیا میں پیٹرولیم مصنوعات سستی اور پاکستان میں مہنگی ہو رہی ہیں، اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس پر چیئرمین اوگرا مسرور خان نے جواب دیا کہ اوگرا پی ایس او سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدی قیمت کی بنیاد پر قیمتوں پر ورکنگ کرتا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کسی ایک روز کی خام تیل کی قیمت پر نہیں ہوتا،اوگرا اپنے صارفین کا مکمل تحفظ کرتا ہے۔

مسرور خان نے کہا کہ اوگرا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں اپنے طور پر ایک پیسہ اوپر نیچے نہیں کرسکتا، پاکستان ضرورت کا 70فیصد پیٹرول درآمد کرتا ہے،30 فیصد پیٹرول مقامی ریفائنریز بناتی ہیں، جبکہ پاکستان میں 50 فیصد ڈیزل درآمد اور 50فیصد مقامی ریفائنریاں بناتی ہیں۔

کمیٹی رکن فدا محمدنے سوال کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کیوں بڑھیں؟،کہیں پی ایس او کے پاس پرانا مہنگا اسٹاک تو نہیں پڑا تھا، نہیں لگتا حکومت پیٹرولیم مصنوعات سستی کر پائے گی۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئی ایم ایف کو بجٹ میں 750 ارب روپے پیٹرولیم سے بتائے گئے ہیں، ابھی تو آگے جا کر حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی بھی لگانا ہے۔ سی ایف او سوئی سدرن نے کہاکہ کے الیکٹرک کو سوئی سدرن کے 125ارب روپے دینے ہیں، سیف اللّٰہ ابڑو نے کہاکہ پیٹرولیم مصنوعات پر پریمیم میں کمی لانے کے اقدامات کیے جائیں۔

کمیٹی کو بریفنگ میں پی ایس او حکام نے کہا کہ ہم نے حکومت سے 100ارب مانگے تھے، ہمیں مجموعی طور پر 52ارب روپے ملے ہیں۔ سیف اللّٰہ ابڑو نے سوال کیا کہ کے الیکٹرک حکومتی اداروں کی ادائیگی کیوں نہیں کرتا، کے الیکٹرک پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ بڑھا رہا ہے، کے الیکٹرک کو وفاقی حکومت کے بھی 300ارب روپے دینے ہیں، کے الیکٹرک مافیا ہے۔

Leave a reply