ہجومی تشدد، بھارتی راجستھان ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ

0
35

راجستھان ہائی کورٹ نے الور میں پیش آنے والے ہجومی تشدد کے واقعہ کے حوالہ سے ایک اہم فیصلہ سنا دیا ہے۔

بھارت، ہجومی تشدد میں ایک مزدور کی جان کیوں لی گئی؟

بھارتی میڈیا کے مطابق راجستھان ہائی کورٹ نے ہجومی تشدد میں جاں بحق ہونے والے پہلو خان اور ان کے بیٹوں کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

واضح رہے کہ اپریل 2017 میں بھارتی ریاست ہریانہ کے نوح (میوات) کے رہائشی پہلو خان جے پور سے دو گائے خرید کر اپنے گھر لے جا رہے تھے۔ راستے میں ایک ہجوم نے الور کے قریب گاڑی کو روک کر ان پر حملہ کیا اور گائے کی اسمگلنگ کے الزام میں مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔

بھارت، ہجومی تشدد کا سلسلہ جاری

پولیس نے ہجومی تشدد کے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے ساتھ ساتھ پہلو خان اور ان کے بیٹوں پر بھی گائے کی اسمگلنگ کا مقدمہ بھی درج کر دیا۔ بعد ازاں موب لنچنگ کے تمام ملزمان کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ۔

بھارت ، بیمار بچے کے ماں باپ بھی ہجومی تشدد کی بھینٹ چڑھ گئے

بدھ کے روز اپنے حکم میں ہائی کورٹ نے مقتول پہلو خان اور اس کے دونوں بیٹوں اور پک وین کے ڈرائیور کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر اور چارج شیٹ منسوخ کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

Leave a reply