مودی کی نفرت انگیز تقاریر ،بھارتی الیکشن کمیشن کا نوٹس

0
162
modi

انتخابی مہم کے دوران بھارتی وزیراعظم مودی کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر پر بھارتی الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا

بھارتی الیکشن کمیشن نے مودی کے بیانات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کر لیا،بھارتی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے وزیراعظم مود ی کی راجستھان میں کی گئی تقریر کے خلاف شکایات کا جائزہ لے رہےہیں،وزیراعظم مودی کے خلاف درخواستیں موصول ہوئی ہیں جس کاجائرہ لیا جا رہا ہے

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے راجستھان میں انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو وہ لوگوں کی جائیداد، زمین اور سونا مسلمانوں میں بانٹ دے گی،کانگریس کے من موہن سنگھ کی حکومت نے پہلے بھی کہا تھا ملک کی دولت پر پہلا حق مسلمانوں کا ہے،کانگریس نے مودی کی تقریر پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مودی کا بیان نفرت انگیز اور توجہ ہٹانےکی کوشش ہے، کانگریس نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر تحقیقات کی جائیں،مودی نے دو طبقات کے مابین دوریاں پیدا کرنے کے لیے مذہب اور مذہبی علامتوں کا استعمال کیا ، کانگریس کے وفد نے الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات کی تھی اور 17 شکایات پر مشتمل درخواست الیکشن کمیشن کو دی تھی،

واضح رہے کہ بھارت میں انتخابات کے پہلے مرحلے کا انعقاد 19 اپریل کو ہوا، پہلے مرحلے میں 21 ریاستوں کی 102 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے . 1600 سے زائد امیدوار میدان میں تھے جبکہ پہلے مرحلے میں 16 کروڑ 63 لاکھ سے زیادہ ووٹر رجسٹرڈ تھے،21 ریاستوں میں لوک سبھا کی 102 نشستوں پر مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ 59.71 فیصد رہا۔

بھار ت میں انتخابات سات مراحل میں یکم جون تک جاری رہیں گے اور نتائج کا اعلان چار جون کو کیا جائے گا، نریندر مودی ایک بار پھر حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے تو مسلسل تیسری بار منتخب ہونے والے بھارت کے دوسرے وزیرِاعظم ہوں گے

Leave a reply