مودی سرکار کے ساتھ جنگ صبر اور استقامت کے ساتھ لڑنی ہو گی انوراگ کشیپ

بھارتی فلمساز انوراگ کشیپ نے گذشتہ روز جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں ہونے والے متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج میں شرکت کی اور کہا کہ ہمیں مودی سرکار کے خلاف جنگ صبر سے لڑنی ہوگی

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی فلمساز انوراگ کشیپ نے گذشتہ روز جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں ہونے والے متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج میں شرکت کی اور وہاں موجود طلبا و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مودی سرکار کے خلاف جنگ صبر اور استقامت کے ساتھ لڑنی ہوگی

بھارتی فلمساز نےجامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے طلبا و طالبات سے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے انقلاب زندہ باد اور آواز دو، ہم ایک ہیں کےنعرے لگائے اور کہا کہ مودی سرکار کے اس متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی سے شروع ہوتے ہوئے جواہر لال نہرو یونیورسٹی تک پہنچا اور پھر آہستہ آہستہ پورے بھارت میں پھیل گیا

بھارتی فلمساز نے کہا کہ آج اتنے سارے لوگوں کو ایک ہی مقصد کے لیے ایک ساتھ کھڑا دیکھ کر یقین آرہا ہے کہ ہم ایک ہیں

بھارتی کامیڈین اداکار جاوید جعفری ایک بار پھر تنقید کی زد میں آگئے


فلساز نے کہا کہ بہت عرصے سے ہمیں یوں اپنے حق کے لیے باہر نکلنے کی ضرورت تھی لہذا اب ہمیں مودی سرکار سے اپنا ملک، اپنا حق سب کچھ واپس لینے کی ضرورت ہے اور یہ ہمیں اسی صورت میں ملے گا جب ہم سڑکوں پر نکلیں گے اور متحد ہو کر یہ جنگ لڑیں گے

انوراگ کشیپ نے کہا کہ مودی سرکار کے خلاف یہ جنگ بہت لمبی ہے یہ جنگ کل ختم نہیں ہوگی یہ جنگ بھارت میں اگلے الیکشن پر ختم نہیں ہوگی بلکہ یہ چلتی رہے گی اور ایک لمبے عرصے تک چلے گی

انوراگ کشیپ نے کہا کہ حکومت ہمارے تھکنے کے انتظار میں ہے کہ ہم کب تھک کے واپس اپنے گھروں کو جائیں گے لیکن ہم بھی اس وقت تک یہاں بیٹھے رہیں گے جب تک کہ مودی سرکار خود ہمارے پاس آکر ہمیں ہمارے ان سوالوں کے وہ جواب نہیں دے گی جن سے ہمیں تسلی ہو جب ہم اِس متنازع شہریت قانون کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے سڑکوں پر آتے ہیں تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ کیوں احتجاج کر رہے ہو یہ قانون بھارتیوں کے لیے نہیں ہے لیکن ہم کیسے یقین کرلیں کہ یہ قانون بھارت میں رہنے والوں کے لیے نہیں ہے ہم ہر گز یقین نہیں کر سکتے کیونکہ حکومت کا ہر ایک نمائندہ مختلف بیان دے رہا ہوتا ہے ہم کس کی بات پر یقین کریں

انہوں نے کہا کہ ہمیں مودی سرکار اور اس کے کسی بھی نمائندے کے بیان پر یقین نہیں ہے بلکہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ آخر کیا کرتے ہیں فلمساز نے کہا کہ اس لیے میں کہہ رہا ہوں کہ یہ لڑائی بہت لمبی ہے اور اس میں ہم سب ساتھ ہیں

بھارتی فلمساز کی جے این یوطلباء پرتشدد کی شدید تنقید


انوراگ نے کہا کہ کچھ لوگوں کے لیے آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ خاموش ہیں تو وہ ہمارا ساتھ نہیں دے رہے ہیں تو ایسا سوچنا غلط ہے کیونکہ وہ لوگ خاموش رہ کر بھی ہمارا ساتھ دے رہے ہیں یہ احتجاج اس وقت چلے گا جب تک مودی سرکار اپنا یہ قانون واپس نہیں لے گی

انوراگ کشیپ نے کہا کہ میں بہت دنوں سے آپ لوگوں کے اس احتجا ج میں شرکت کرنے کا سوچ رہا تھا اور آج یہاں آکر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے آپ لوگوں کی انتی زیادہ تعداد دیکھ کر میں بہت زیادہ خوش ہوا ہوں

جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات سے خطاب کے اختتام پر انوراگ کشیپ نے آواز دو ہم ایک ہیں‘ کا نعرہ لگایا

واضح رہے کہ گذشتہ کئی ماہ سے بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے مختلف شہروں میں ابھی تک جاری ہیں اور بھارتی فلمساز انوراگ کشیپ اس قانون کے خلاف اکثر مقامات پر آواز اُٹھاتے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اکثر بھارتیوں کی تنقید کاشکار رہتے ہیں جبکہ ان کے علاوی بالی وڈ کے دیگر اداکار بھی اس قانون کے خلاف آواز اٹھا چکے ہیں جن میں نصیرالدین شاہ سونم کپور سوارا بھاسکر اور دیگر ادکار شامل ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.