مودی سرکار کی سوشل میڈیا پر تاریخی چھترول ، تحریر:عفیفہ راؤ

0
72

جب قسمت میں بے عزتی اور لعنت مقدر ہو تو مل کر رہتی ہے۔ اور اس وقت یہ بات انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی پر ہر لحاظ سے فٹ ہوتی ہے۔ ویسے میرے لئے اس میں کوئی حیرانگی کی بات نہیں ہے کیونکہ ان کا ٹریک ریکارڈ ہی ایسا ہے مودی سرکار اور اس کے دو نمبر میڈیا کے جھوٹوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ لیکن اب جس طرح سے انٹرنیشنل میڈیا نے ان کے جھوٹ کا پول کھولا ہے اور انھیں بےنقاب کیا ہے اس پر اب مودی سرکار کی سوشل میڈیا پر تاریخی چھترول ہو رہی ہے۔

ویسے تونریںدر مودی کے ہیش ٹیگز کا سوشل میڈیا پروائرل ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے وہ اکثر ہی اپنی کسی نہ کسی بونگی حرکت یا پھر کسی نئے جھوٹ کی وجہ سے وائرل ہوتے ہی رہتے ہیں۔ لیکن اب کی بار ان سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے انٹرنیشنل میڈیا کو اس میں گھسیٹ لیا۔ تو بس پھر ان کا پول تو کھلنا ہی تھا۔دراصل ہوا یہ کہ جب انڈین وزیراعظم نریندر مودی اپنے امریکہ کے دورے سے واپس لوٹے تو فورا ہی انڈین سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں ایک امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا ایک آرٹیکل شیئر ہونا شروع ہوگیا۔اس آرٹیکل کے مطابق امریکہ کے سب سے معتبر سمجھے جانے والے اخبار نے وزیراعظم مودی کو دنیا کے لیے آخری اور بہترین امید قرار دیا تھا۔Last, Best Hope Of EarthWorld’s most loved and most Powerful Leader is here to bless us.یہ وہ الفاظ تھے جو نریندر مودی کی تصویر کے ساتھ لکھے گئے اور ایسا ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ جیسے نیویارک ٹائمز نے اپنے فرنٹ پیج پر یہ ٹاپ ہیڈ لائن لگائی ہے۔جس پر انڈین حکمران جماعت کے لوگ خوب خوشی منا رہے تھے اور اس آرٹیکل کو خوب شئیر بھی کیا جا رہا تھا۔ لیکن قسمت کی مار یہ ہوئی کہ ان کا یہ آرٹیکل نیویارک ٹائمز والوں تک بھی پہنچ گیا۔ اور رنگ میں بھنگ اس وقت پڑا نیویارک ٹائمز کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ ٹوئیٹ کی گئی کہ۔۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا اخبار کا یہ صفحہ دراصل جعلی ہے۔ یہ ایک مکمل طور پر من گھڑت تصویر ہے، اور یہ گردش کرنے والی ان بہت ساری تصاویر میں سے ایک ہے جن میں وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ اس کے ساتھ اخبار نے ایک لنک شیئر کیا ہے اور انڈینز کو بتایا کہ اگر وہ نریندر مودی پر اس ادارے کی حقیقت میں کی جانے والی رپورٹنگ پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔

اب اس تمام بات کا صاف مطلب ہے کہ یہ کوئی ایک یا اکلوتی جعلی تصویر نہیں ہے نریندر مودی کی بے شمار جعلی تصویریں ہیں جو کہ وہ اپنی فیک پروموشن اور دنیا سے اپنا گھناونا روپ چھپانے کے لئے اپنے پارٹی ممبرز اور سوشل میڈیا سلیز سے وائرل کرواتا ہے۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے اور آخر اب نیو یارک ٹائمز نے اس کی جعلی تصویروں اور بو نمبریوں کا بھانڈا پھوڑ ہی دیا ہے۔اور اس وقت انڈیا کی جتنی جگ ہنسائی ہو رہی ہے آپ کی سوچ سے بڑھ کر ہے یہاں تک کہ ان کی اپنی عوام اور صحافی ٹوئیٹر پر ان کی کلاس کر رہے ہیں۔
انڈین رائٹر Sanjukta Basuنے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ بے جے پی کے آئی ٹی سیل کی جانب سے جھوٹی خبر پھیلانے میں کچھ نیا نہیں ہے لیکن اس بار یہ اتنا آگے چلے گئے کہ نیویارک ٹائمز کو عوامی طور پر اس کی تردید کرنا پڑی۔ اب یہ ایک بین الاقوامی خبر بن چکی ہے۔انڈین صحافی رانا ایوب نے بھی وزیراعظم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ۔۔ کتنی شرمندگی کی بات ہے۔ نیویارک ٹائمز کو یہ وضاحت دینی پڑی کہ پورے صفحے پر مودی کی تصویر اور ان کی تعریف میں دی جانے والی شہ سرخی جسے بہت سے بی جے پی رہنماؤں نے شیئر کیا وہ جعلی ہے۔ اگر کچھ نہیں تو ہمارے سیاستدانوں کی فوٹوشاپ کرنے کی مہارت ہی بین الاقوامی خبر بنا رہی ہے۔انڈین پارلیمنٹ کے رکنDR Santanu Senنے بھی اس فیک نیوز پر مودی اور ان کی جماعت کو خوب سنائیں۔انہوں نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ۔۔وزیراعظم کو کسی نے یہ حق دیا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر انڈیا کا امیج خراب کریں؟What can be more shameful?ویسے صحیح کہا
DR Santanu Senنے اس سے زیادہ شیم فل کچھ نہیں ہو سکتا لیکن اس سے بھی زیادہ ڈوب مرنے کی بات یہ ہے کہ مودی سرکار کی جعلی تصویریں بنانے والی ٹیم کی انگریزی بھی بہت ہی اعلی درجے کی ہے۔

انڈیا جو اس بات پر بہت اتراتا ہے کہ ہمارا تو تعلیمی نظام بہت اچھا ہے ہمارا ریڑھی والا بھی انگریزی بولتا ہے تو ان کی جعلی انگریزی کی بھی اصلیت اس ایک تصویر نے بتا دی ہے۔
اس تصویر میں ستمبرکے Spellings بھی بدل کر رکھ دئیے ہیں اور اب نئے Spellings ہیں Setpemberجس پر کئی سوشل میڈیا والے طنز میں مودی جی کا شکریہ ادا کررہے ہیں کہ انہوں نے دنیا کو ستمبر کے نئے SpellingsسےIntroduceکروادیا ہے۔اسکے علاوہ قابل غور بات یہ بھی ہے کہ نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے اور امریکی صدر جو بائیڈن اور دوسرےعالمی رہنماؤں سے ملنے کے لیے 24اور 25ستمبر دو دن امریکہ کا دورہ کیا تھا اور نیویارک ٹائمز کے اخبار کی فوٹوشاپ تصویر پر 26 ستمبر کی تاریخ درج ہے۔اب میں آپ کو کچھ اصل حقائق بتاتا ہوں کہ جب نریندر مودی نے امریکہ کا دورہ کیا تو اصل میں وہاں مودی کے ساتھ اور اسکے میڈیا کے ساتھ خود وہاں ان کے اپنے سفیروں نے کیا سلوک کیا۔
جس وقت مودی امریکہ کے دورے پر تھا اصل میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر مودی اور آر ایس ایس کے خلاف بڑا مظاہرہ ہوا تھا جس میں مظاہرین نےGo back modi
اورModi out of NYCکے پوسٹرز اٹھا کر احتجاج کیا تھا۔ اور تجزیہ کار اس پورے معاملے کوHall of shameیعنی شرمندگی کا باعث بتا رہے ہیں۔ اور جو خود انڈین سفارتکار نے ایک انڈین اینکر کے ساتھ کیا وہ ایک الگ کہانی ہے۔ آج تک ٹی وی کی اینکر انجنا اوم کیشیپ اصل میں اقوام متحدہ میں ہونے والی تقریروں کو Coverکر رہی تھیں۔ اب ہوا یہ کہ اقوام متحدہ میں انڈین مشن کی رکن سنیہا دوبے نے اسمبلی میں تقریر کی اور اس کے کچھ ہی دیر بعد آج تک ٹی وی کی اینکر انجنا بغیر knockکئے ان کے کمرے میں گھس گئیں۔ سوشل میڈیا پراس کی باقاعدہ ویڈیو بھی موجود ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انڈین اینکر نے کمرے میں گھستے ہوئے ہی بولنا شروع کر دیا کہ ہمارے ساتھ سنیہا دوبے یہاں پر موجود ہیں سنہیا دوبے وہی ادھیکاری ہیں فرسٹ سیکرٹری، جنہیں پورے دیش نے اتنے گِرو کے ساتھ سنا ہے۔ مجھے پتا ہے آپ آن ریکارڈ بات نہیں کرنا چاہیں گی۔ مگر آج پورا ہندوستان آپ کو سننا چاہ رہا ہے۔

مطلب ان کو پہلے سے معلوم تھا کہ وہ میڈیا پر نہیں آنا چاہتی لیکن وہ ان پر کیمرے کا پریشر ڈال کر زبردستی کچھ بلوانا چاہتیں تھیں۔لیکن سنیہا دوبے نے کہاNo commentsہمیں جو بولنا تھا ہم لوگوں نے وہ بول دیا پلیز اور انڈین اینکر کو واپسی کے لیے دروازہ دکھا دیا۔جس کے بعد یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی۔ لوگوں نے طرح طرح کے Commentsکئے اس ویڈیو پر۔۔۔
یہاں تک کہ دو تصویریں ساتھ جوڑ کر وائرل کی گئیں جن میں سے ایک میں وزیراعظم مودی انجنا اوم کیشیپ کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور دوسری تصویر میں سنیہا دوبے ان کو باہر کا راستہ دکھاتے ہوئے نظر آرہی ہیں۔لیکن زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ انجنا کو جس طرح سنیہا نے ٹریٹ کیا وہ بالکل درست تھا۔اور صحیح بات ہے کہ یہ رویہ بالکل درست تھا کیونکہ جس طرح کیYellow journalismانڈین میڈیا کرتا ہے اس کا مظاہرہ ہم کئی بار دیکھ چکے ہیں۔آپ کو بھی یاد ہو گا کہ کچھ عرصہ پہلے کیسے فیک ویب سائٹس کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک
Exposeہوا تھا۔ جو پاکستان کے خلاف کئی سالوں سے جھوٹی خبریں پھیلاتا چلا آ رہا تھا۔اس کے علاوہ ابھی کچھ ہفتے پہلے ایک انڈین ٹی وی چینل ویڈیو گیم کی ایک فوٹیج اپنی سکرین پر یہ بتاتے ہوئے چلا رہا تھا کہ دیکھیں کیسے پاکستانی جہاز افغانستان کے صوبے پنجشیر میں طالبان کی مدد کر رہا ہے اور مزاحمت کرنے والوں پر حملے کر رہا ہے۔یہ مذاق ختم ہوا تو ریپبلک ٹی وی کے اینکرپرسن ارنب گوسوامی نے کابل میں سیرینا ہوٹل کے دو کے بجائے پانچ فلورز بھی بنا ڈالے۔ جن کا وجود ہی نہ تھا۔موصوف اپنے پروگرام میں پاکستانی مہمان سے کہنے لگے کہ کابل میں سیرینا ہوٹل کے پانچویں فلور پر پاکستان آرمی کے افسران ٹھہرے ہوئے ہیں۔اس پر پاکستان مہمان نے انہیں بتایا کہ سرینا ہوٹل کے دو سے زائد فلورز تو ہیں ہی نہیں۔آخر میں آپ کو بتاوں کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ اصل میں انڈیا کی پرانی حرکتیں ہیں پہلے سوشل میڈیا نہ ہونے کی وجہ سے ان کے کرتوتوں کا کسی کو اتنا زیادہ پتہ نہیں چلتا تھا لیکن اب ظاہری بات ہے جب بھی انڈینز کی طرف سے کوئی ایسی دو نمبری کی جاتی ہے تو وہ فورا پکڑی جاتی ہے۔ اور یہ دورہ جو اب انڈیا کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے یہ صرف سوشل میڈیا تک نہیں ہے بلکہ سفارتی سطح پر بھی ایک انتہائی ناکام دورہ تھا

Leave a reply