fbpx

مودی کی فسطائی حکومت کشمیری طلباءکا مستقل تاریک کرنے پر تلی ہوئی ہے:حریت رہنما

سری نگر:جموں وکشمیر میں آزادی پسند تنظیموں رہنماﺅں اور طلبہ تنظیموں نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ کشمیری طلبہ کا مستقبل تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق جموں وکشمیر پیپلز لیگ ، جموںوکشمیر مسلم لیگ ، جموں وکشمیر مسلم کانفرنس ، فلاح پارٹی جموںوکشمیر کے نائب چیئرمین ڈاکٹر اختر رسول ، جموںوکشمیر سٹوڈنٹس یونین ، ماہرین تعلیم اور دانشوروں نے سرینگر میں اپنے بیانات میں بھارتی حکومت کے حالیہ نوٹس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

جس میں پاکستان میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کے حوالے سے کہا گیا کہ ان کی اسناد کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور نہ انہیں نوکریاں دی جائیں گی۔

 

 

حریت تنظیموں رہنماﺅں اور دیگر نے کہا کہ بھارت کشمیری طلبہ کو اعلیٰ تعلیمی سہولیات فراہم نہیں کر رہا اور جو کشمیری بھارتی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم کے حصول کے لیے جاتے ہیں انہیں بھارتی انتہا پسند ہندوﺅں کے عتاب کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کشمیریوں کو تعلیم کے میدان میں بھی پیچھے رکھ کر ان پر بھارتی ہندو افسروں کو مسلط کرنا چاہتی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کی اسناد کو قبول نہ کرنا بھارتی تعصب اور تکبر کی ایک اور نشانی ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام تعلیم کے حصول کے حق کے عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

حریت تنظیموں رہنماﺅں اور دیگر نے مزید کہا کہ بھارت پہلے ہی کشمیری ملازمین کو بلا جواز طور پر نوکریوں سے نکال رہا ہے اور وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ کشمیری نوجوانوں کو مختلف حیلے بہانوں سے نوکریوں سے باہر رکھ کر کشمیر ی مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کا ایک اور ثبوت دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بھارت کی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود اپنے حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

حریت تنظیموں رہنماﺅں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں غیر قانونی بھارتی اقدامات کو نوٹس لے اور کشمیریوں کو اپنی پاس کردہ قرار دادوں کے مطابق حق خود ارادیت دلانے کیلئے کردار ادا کرے۔