پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان آج ایم کیوایم کے مرکز بہادرآباد جائیں گے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان اور ایم کیوایم قیادت کے درمیان ملاقات ہو گی ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیاجائےگا مولانا فضل الرحمان ایم کیو ایم قیادت سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد پر حمایت مانگیں گے۔
جب جہازبھربھرکے لائے جا رہے تھےتوضمیرکی آوازکہاں تھی؟ مولانا فضل الرحمان
گزشتہ روز اپوزیشن کے وفد نے اسلام آباد کے پارلیمنٹ لاجز میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے اہم ملاقات کی ملاقات میں سیاسی صورتحال ، تحریک عدم اعتماد اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیاملاقات میں ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں میں ملاقاتوں اور پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ترجمان ایم کیو ایم کے مطابق اپوزیشن وفد میں اختر مینگل ، احسن اقبال،ایاز صادق ، راناثنااللہ اور خواجہ سعد رفیق جبکہ پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ اور سہیل انور سیال شریک ہوئے جبکہ ایم کیو ایم کے وفد میں سینیر ڈپٹی کنوینر عامر خان ، وسیم اختر اور امین الحق شامل تھے۔
کوئی بھی ڈی چوک نہیں آ سکتا،جلسے کہیں اور کریں، بڑا حکم آ گیا
گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک میں آمرانہ سوچ ہے،جمہوری ماحول ہی نہیں ہے ،جو حکومت عام آدمی کے حقوق کا تحفظ نہ کرسکے اس کا پھرکیا کہہ سکتے ہیں معلوم نہیں حکومت کو عوام کے سامنے آنے کی ہمت کیسے ہو رہی ہے؟امید ہے عدالت آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی ،حکومت کی ان گراؤنڈ کوئی کارکردگی نہیں ان کی تاریخ تضاد سے بھری ہوئی ہے،جب جہاز بھر بھر کے لائے جا رہے تھے تو ضمیر کی آواز کہاں تھی؟ اب جب ان کی عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے ممبران ان سے منحرف ہورہے ہیں تو کہتے ہیں ہارس ٹریڈنگ ہورہی ہے۔
سازش نہیں مکافات عمل،نوازشریف نے باہر بیٹھ کو آپکو گھر میں گھس کرمارا،مریم نواز
پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پہلی بار سپریم کورٹ آیا ہوں، سپریم کورٹ بھی ہمارا ادارہ ہے، میری نظر میں یہ حکومت ناجائز ہے ،قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس پر عدالت عظمی فیصلہ کرے گی،ہمارے وکلا نے بڑی محنت سے درخواست تیار کی ہے۔