مون سون کی تباہ کن بارشوں نےنئی دہلی کوسیلاب میں ڈبودیا

نئی دہلی میں سیلابی صورتحال کے باعث پینے کے پانی کے پلانٹس بند ہونے کی وجہ سے پانی کی بھی قلت ہے
0
45
monsoon

بھارت میں ہونے والی مون سون کی تباہ کن بارشوں نے شمالی ریاستوں میں تباہی مچانے کے ساتھ ساتھ دارالحکومت نئی دہلی کو بھی شدید متاثرکیا ہے۔

باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کےمطابق موسلادھاربارشوں کے باعث نئی دہلی کی جمنا ندی میں پانی کی سطح خطرناک حد سے تجاوز کرچکی ہے شہرکے بیشتر علاقے سیلابی پانی میں ڈوب گئے ہیں جبکہ دریا میں پانی کی سطح میں مزید اضافے کا امکان بھی ظاہرکیا گیا ہے۔ جہاں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں وہیں گاڑیاں بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔

پاکستان کوفوری طورپرتوانائی کےشعبے کی افادیت کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے،ایم ڈی آئی ایم …

گزشتہ روزمیڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ نئی دہلی کی جمنا ندی میں پانی کی سطح کا 45 سالہ ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے جہاں پانی کی سطح 207.08 میٹرتک ریکارڈ کی گئی تھی آج صبح جمنا ندی میں پانی کی سطح خطرناک حد سے بھی تجاوزکرتے ہوئے 208.46 میٹرتک پہنچ چکی ہے۔


شدید بارشوں کے باعث نئی دہلی کے متعدد علاقوں کے زیرآب آنے کی وجہ ہتھنی بیراج کنڈ سے پانی چھوڑے جانابتائی جارہی ہے لیکن دوسری وجوہات کو بھی دہلی کے ڈوبنے کا باعث قراردے رہے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہےکہ دہلی کو درپیش مسئلے کی کئی اور وجوہات بھی ہیں،۔ٹوئٹر پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سیلابی پانی دریائے جمنا کے نزدیک واق مغلیہ سلطنت کے سنہری دور کی یادگار لال قلعہ تک بھی جا پہنچا۔


اس سے قبل نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ نے بھارتی ریاست ہریانہ کو دریا میں پانی چھوڑنے سے منع کیا تھا تاہم وہاں سے مزید پانی چھوڑ ے جانے کے باعث دریا میں پانی خطرناک سطح سے 3 میٹر تک اوپرجاچکا ہے،دوسری جانب نئی دہلی میں سیلابی صورتحال کے باعث پینے کے پانی کے پلانٹس بند ہونے کی وجہ سے پانی کی بھی قلت ہے۔

آئی ایم ایف معاہدہ: امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی پاکستانی حکومت کو مبارکباد



دہلی ٹریفک پولیس نے آج صبح اپنی ایڈوائزری میں کہا کہ کئی سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے اس لیے مسافر وہاں جانے سے سے گریز کریں۔ ہنگامی صورتحال کے باعث تمام اسکولوں سمیت سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کو بھی بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

آئی ایم ایف نےایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط اسٹیٹ بینک میں منتقل …


Leave a reply