مبشر لقمان دبئی میں، کرونا اور پاکستانیوں کی صورتحال

0
46

سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان دبئی کے دورے پر ہیں انہوں نے یہ بتایا کہ وہ پی آئی اے کی فلائٹ سے دبئی آئے ہیں جس میں 112 افراد سوار تھے جس کا مطلب ہے کہ فلائٹ آپریشن بحال ہے اور ویزے بھی مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چند وجوہات کی بنا پر حکومت نے روکا ہوا ہے کام کے سلسلے میں آنے والے لوگوں کو روکا جا رہا ہے اور ویزہ نہیں دیا جا رہا جس کی وجہ یہ ہے کہ تقریباً 18 لاکھ لوگ دبئی میں بے روزگار ہوا ہے جو کہ بہت بڑی تعداد ہے اور حکومت کی یہ کوشش ہے کہ پہلے ان لوگوں کو روز گار فراہم کیا جائے پھر نئے لوگ آئیں

سینیئرصحافی و اینکر پرسن نے کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے بتایا کہ دبئی ائیر پورٹ سے لے کر ڈیرہ دبئی تک وہ ماسک پہن کر آئے اور ابھی بھی ماسک ان کے ہاتھ میں ہے اگر وہ ماسک نہیں پہنیں گے تو دبئی کی پولیس ان کو جرمانہ کر دے گی ،

سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ دبئی میں تمام کاروبار کھلے ہیں ،شاپنگ مالز میں بھی لوگ آجا رہے ہیں سیرو تفریح کر رہے ہیں مگر کرونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد ہو رہا ہے اور لوگوں کی مخصوص تعداد کا خاص خیال رکھا گیا ہے جیسے جیسے لوگ نکلتے ہیں دوسرے لوگ داخل ہو جاتے ہیں اب سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کاروبار بھی چلنے دے رہے ہیں اور کرونا کے خفاظتی اقدامات پر عملدرآمد بھی کروا رہے ہیں اور یہاں ہر قسم کے لوگ ہیں پاکستانی بھی ہیں جو قانون کی پاسداری کر رہے ہیں

سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان نے مزید بتایا کہ پاکستانی ایمبیسی میں ساڑھے تین ماہ سے ہائی کمشنر کی تعینات نہیں ہے جس سے پاکستانی کمیونٹی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے یہاں پر ٹیکسی میں بھی سفر کے دوران ایس او پیز کا خیال رکھا جا رہا ہے جبکہ پاکستان میں جلسے جلوسوں کی بھرمار ہے اور ہم شکوہ کر رہے ہیں کہ لوگ کیوں بیمار ہو رہے ہیں ہم احتیاط بالکل نہیں کر رہے پاکستانی ہائی کمیشن میں ہزاروں لوگ مشکلات کا شکار ہیں جبکہ دوسری جانب زلفی بخاری دعویٰ کر رہے ہیں کی دبئی سے تعلقات بہتر کر لیں گے حالانکہ ان کا وزارت خارجہ سے تعلق ہی نہیں ہے

Leave a reply