fbpx

ملک کی اقتصادی بدحالی کینسر کی طرح جسم کو کھانے لگی ، فوری ازالہ نہ کیا تو تباہی یقینی

ملک کی اقتصادی بدحالی کینسر کی طرح جسم کو کھانے لگی ، فوری ازالہ نہ کیا تو تباہی یقینی

باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق . پاکستان کی اقتصادی صورت حال اب اس قدر خطرناک اور الارمنگ سطح پر پہنچ چکی ہے. جہاں سے فورا کنٹرول نہ کیا تو تباہی ہی تباہی ہے . ماہرین کے مطابق یہ اقتصادی صورت حال کی تباہی اس پھیلتے ہوئے کینسر کی طرح ہے جو جسم کے اندر حیاتیاتی خلیات کو تیزی سے تباہ کر رہی ہے .

ماہرین کے مطابق اس ڈیمج اور نقصان کو جلد کنٹرول نہ کیا گیا تو پھر معاشی تباہی اور موت یقینی ہے جس سے ملک کی سیکیورٹی صورت حال بھی بہت نقصان دہ ہے .

اعداد و شمار کے مطابق پچھلے دس سالوں میں ایف بی آر‌ ٹیکس ریوینیو 273 فیصد بڑھا ہے . جس کی مالیت 1.3 کھرب بنتی ہے . 2010 سے 2020 تک کے یہ اعداد شمار ہیں جبکہ بجٹ کا تخمینہ 4.9 کھرب روپے کا ہے . عوامی قرضوں میں ان دس سالوں میں 399 فیصد افافہ ہوا ہے. اور ان کی مالیت 9.1 کھرب تک پہنچ گئی ہے . 2021 میں‌بجٹ کا تخمینہ 45 کھرب روپے کا ہے .

بیرونی قرضے 192 فیصد بڑھ چکے ہیں جبکہ یہ قرضے 2010 میں‌ 4.3 کھرب تھے اور 2021 میں 12.7 کھرب ہیں.

بجٹ کسی بھی ملک کی آمدنی اور اخراجات کا تخمینہ ہوتے ہیں جیسے کسی تنخواہ دار یا کاروباری شخص کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کا ماہانہ یا سالانہ خرچہ اتنا ہے اور اس کے اخراجات کتنے ہیں پھر وہ انہی اخراجات اور آمدنی کے درمیان اپنے منصوبے ترتیب دیتا ہے۔

اگر کوئی انہونی ہو جائے یا کوئی ایسی مجبوری آن پڑے کے اسے ادھار لینا پڑے یا کسی سے قرضہ لینا پڑے تو پھر اس کے سارے سال کے منصوبے اتل پتھل ہو جاتے ہیں اور پھر اس ادھار کو چکانے یا پورا کرنے ہی کے لئے ساری تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔ ایسا ہی کچھ پاکستان میں اس کے کرتا دھرتاؤں نے کر دیا ہے۔ پاکستان کا بجٹ مسلسل کئی سالوں سے خسارے میں چل رہا ہے۔

سیدھی اور سادہ سی بات ہے کہ ہماری آمدنی ہمارے اخراجات کا ساتھ نہیں دے رہی جس کی وجہ سے ہمیں مسلسل خسارے کا بجٹ پیش کرنے کی عادت ہوتی جا رہی ہے۔ پھر اس کے علاوہ ایک اور نئی پخ پچھلے کئی عرصے سے بجٹ کا حصہ ہے کہ بجٹ پیش کرنے کے بعد منی بجٹ کی بھی رونمائی کی جاتی ہے جس کا مطلب ہے کہ مزید ٹیکس یا مزید آمدنی کیلئے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لادنا ہوتا ہے۔

اگر ہماری آمدنی ہمارے اخراجات کا بھار برداشت کرنے کے قابل ہو تو پھر حکومتوں کو منی بجٹ پیش کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ہوتا کیا ہے جوٹیکس یا ریلیف سالانہ بجٹ میں دیا جاتا ہے وہ منی بجٹ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے یا تو مزید ٹیکس لگا دیئے جاتے ہیں اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ سالانہ بجٹ میں دیا گیا ریلیف منی بجٹ میں ختم کر کے مزید ٹیکس بڑھا دیئے جاتے ہیں۔بنیادی طور پر منی بجٹ ہوتا ہی آمدنی بڑھانے کیلئے ہے کہ مزید ٹیکس لگا کر آمدنی بڑھائی جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.