سینیٹ اجلاس، مشاہد حسین سید کا عمران خان سمیت سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ

سیاسی ورکر قربانی دے کر اپنے لیڈر کے ساتھ رہتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں
0
92
Imran Khan

اسلام آباد: سینٹ اجلاس چئیرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت شروع، سینٹ سے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک منظور، تحریک قائد حزب اختلاف وسیم شہزاد نے پیش کی، سینٹ میں عام انتجابات 2024پر بحث شروع کی گئی-

باغی ٹی وی: سینیٹر عون عباس نے کہا کہ اعجاز چوہدری نو ماہ سے جیل میں ہیں ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کروانا آپکی ہماری ذمہ داری ہے، آج گیارہ ماہ بعد سینیٹ میں تقریر کر رہا ہوں، گیارہ ماہ میں میرے ساتھ کیا کیا نہیں ہوا، نو مئی کا واقعہ ہوا روپوش ہو گیا، بچے لے کے در بہ در پھرتے رہے، بیٹے نے باہر واپس جانا تھا چھپا کے اس کو باہر بھیجا، میری ماں کو فالج ہو گیا صدمے سے کہ شاید بیٹا مر چکا ہے، یہاں سے نکلا تو شاید پھر گرفتار کر لیا جاؤں ، لیکن مجھے اب فرق نہیں پڑتا ، اس ایک قیدی نے حقیقی معنوں میں آزادی دی ہے، اس ایک قیدی نے اس نظام کو ننگا کیا ہے، دس سے زیادہ ہمارے آزاد امیدوار آج ن لیگ میں گئے ہیں، ووٹ خان کا لیا لیکن آپ کے ساتھ ہیں-

آزاد امیدواروں کے ن لیگ میں شامل ہونے کے سینیٹر عون عباس کے کمنٹ پر لیگی اراکین نے شور شرابہ کیا، سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہا کہ اپنے لیڈر کے لیے مخالف پارٹی سے لڑائی، بہت سے معاملات پر تلخ کلامی بھی ہوئی، میں ایوان میں اپنی کارکردگی سے مطمئن ہوں، پارلیمانی سسٹم کو مضبوط کرنا اسٹبلیشمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ سیاسی جماعتوں کا کون ذمہ دار ہیں ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں، اگر ہم ووٹ کو طاقت دیں گے تو ہمیں عوام کے ساتھ بیٹھنا ہے، خاموش رہنے والے اس امید تھے کہ ان کوکچھ ملے، ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں کہ ہمارا سسٹم کیا ہے ایک جماعت کا لیڈر الیکشن سے پہلے وزیراعظم کے طور پر تقریر کرتا ہے، کروڑوں روپے لیکر جیتنے اور کروڑوں روپے لیکر ہاروانے والے کون ہیں، اس ایوان میں اگر آپ صرف عوام کے لئے بات کریں تو کوئی آپ کے ووٹ چوری نہیں کر سکتا،ہ م یہاں بیٹھ کر اداروں کی بات کرتے ہیں

بہرہ مند تنگی نے کہا کہ ہم اپنی غریب عوام کے لئے نہیں لڑتے ہم کرسیوں کے لیے لڑتے ہیں جس کی سیٹیں زیادہ ہیں انکو حکومت کرنے دیں ہم پاکستان کو آگے لیکر جانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس سسٹم کو مضبوط کرنا ہے اس پانچ سالوں میں سیٹیوں کی بجائے جمہوریت اور سسٹم کی مضبوطی کے لیے کام کرنا چاہیے سیاسی ورکر قربانی دے کر اپنے لیڈر کے ساتھ رہتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں، مشکل وقت آتے ہیں لیکن کامیابی بھی انھیں کی ہوتی ہے-

سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کو مبارک دیتا ہوں کہ وہ دوسری بڑی پارٹی ہیں الیکشن میں، سافٹ کو ہوا نواز شریف جیل گئے،لوگ ڈرتے تھے ہم نے بات کی، ہمارے ساتھ ہوا تو یہ خوش تھے اس بار انکے ساتھ ہوا تو ہم خوش ہیں، جتنے سیاسی قیدی ہیں بشمول عمران خان رہا کیا جائے-

سینیٹر محمد اکرم نے کہا کہ پی پی پی اور پی ایم ایل دھندلی کی بات نہیں کرتی ہماری گفتگو کسی کو پسند نہیں آتی اس لیے مستقل میں ہم ایوان میں نہیں ہوں گے کیا پاکستان کے آئین قانون میں اسمگلر، چور، ڈاکو ایوان میں آ سکتا ہے اسٹبلیشمنٹ پسند نہیں کرتی اور دوسر ی طرف ہماری ساتھ دشمن تھے لیکن ہم نے ووٹ الیکشن مہم کی، یہ الیکشن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین الیکشن تھا، یہ متنازعہ ترین الیکشن ہے، جو بلوچستان میں ٹیم لائی گئی ہے یہ تباہی ہے ملک کی، بلوچستان میں ایک بڑے آپریشن کی تیاری کی جا رہی ہے، بلو چستان میں آنے والے دنوں میں بدترین صورتحال ہو گی، پاکستان میں ایک مثبت رزلٹ آتا ایک سٹبیلٹی آتی، اللہ کرے پاکستان میں امن آئے-

سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ صرف اپنی پارٹی نہیں بلکہ کسی اور پارٹی کے ساتھ بھی زیادتیاں ہوئی ہیں تو مذمت کرتا ہوں، جس طرح مشاہد حسین سید کا رویہ ہے بیلنس بات کرتے ہیں سب کا یہی رویہ ہونا چاہیے، ہمارے پشاور ڈسٹرکٹ میں ہم تمام سیٹیں جیتے ایک ہار گئے ہمارا این اے کا امیدوار ایک ہی پولنگ اسٹیشن پر ڈبل مارجن سے جیتا، ان لوگوں کے ساتھ ابھی بھی مذمت کرتا ہوں جو ابھی بھی جیل میں ہیں، اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے لیے جو قرارداد دی ہے اس ہر نظرثانی کریں، بانی پی ٹی آئی لیڈر ہیں لیکن جیل میں ڈال کے ہیرو قیدی نمبر 804 بنایا، بانی پی ٹی آئی کو ان کا صحیح مینڈیٹ دینا چاہیے-

سینیٹر مہر تاج روغانی نے کہا کہ فارم 45 ہمارے امیدواروں نے اپنے سینوں سے لگائے ہوئے ہیں، فارم 45 پر رزلٹ نکالیں اور کوئی جھگڑا نہیں ہے-

Leave a reply