نیا دریافت شدہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا،ناسا

0
67
Astroid

ایک نیا دریافت شدہ سیارچہ اس ہفتے زمین کے بہت قریب سے گزرے گا-

باغی ٹی وی: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 2023 بی یو (2023 BU) نامی سیارچہ زمین کے سب سے زیادہ گزرنے والے سیارچوں میں سے ایک ہوگا۔

شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت

2023 BU کی پیمائش 12 اور 28 فٹ چوڑائی (3.8 سے 8.5 میٹر) کے درمیان ہے، اور اسے ابھی ہفتہ (21 جنوری) کو ماہر فلکیات Gennadiy Borisov نے کریمیا میں MARGO آبزرویٹری میں دریافت کیا تھا۔

ای ایس ٹی (2117 GMT)، خلائی چٹان زمین کی سطح سے صرف 2,178 میل (3,506 کلومیٹر) کی اونچائی پر زمین سے چاند کے اوسط فاصلے کے 3 فیصد سے بھی کم کے اندر ہوگی مقابلے کے لیے، زیادہ تر جیو سٹیشنری سیٹلائٹ تقریباً 22,200 میل (35,800 کلومیٹر) مدار میں گردش کرتے ہیں-

ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

یہ سیارچہ پاکستانی وقت کے مطابق 27 جنوری کو صبح ساڑھے 5 بجے جنوبی امریکا کے اوپر سے گزرے گا اور اس وقت ہمارے سیارے کی سطح سے محض 3600 کلومیٹر اوپر ہوگا، یعنی سیٹلائیٹس کے قریب ہوگا زمین کے اکثر سیٹلائیٹس 160 سے 2 ہزار کلومیٹر کی بلندی پر گردش کرتے ہیں مگر ناسا کے مطابق سیارچے کا ہمارے سیارے سے ٹکرانے کا خطرہ نہیں۔

ناسا نے کہا کہ اگر سیارچہ زمین کے بہت زیادہ قریب آگیا تو یہ جل جائے گا اور اس کے چھوٹے ٹکڑے شہاب ثاقب کی شکل میں سطح تک پہنچیں گےناسا کی جیٹ Propulsion لیبارٹری کے ماہر Davide Farnocchia نے بتایا کہ یہ سیارچہ زمین کے بہت زیادہ قریب آنے والا ہے، درحقیقت یہ زمین کے سب سے زیادہ قریب آنے والے چند سیارچوں میں سے ایک ثابت ہوگا۔

ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر…

یہ سیارچہ حجم کے لحاظ سے کسی ڈیلیوری ٹرک (delivery truck) جتنا بڑا ہے اور اسے سب سے پہلے کریمیا کے شوقیہ خلا باز Gennady Borisov نے دیکھا تھا جس کے بعد ناسا کے ماہرین کی جانب سے اس کے راستے کا تعین کیا گیا۔

ناسا کے مطابق اس سیارچے کا راستہ زمین کے قریب سے گزرنے کے دوران کشش ثقل سے نمایاں طور پر متاثر ہوا۔

Leave a reply