fbpx

نواز شریف سے ڈیل کی خبریں٫ ڈی جی آئی ایس پی آر کا رد عمل آ گیا

راولپنڈی : نواز شریف سے ڈیل کی خبریں٫ ڈی جی آئی ایس پی آر کا رد عمل آ گیا،اطلاعات کے مطابق پاک فوج نے میڈیا اوردیگرذرائع سے پھیلائی جانے والی خودساختہ ، جھوٹی اور بے بنیاد خبروں کونہ صرف سختی سے مسترد کردیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ ایسی خبریں پھیلانے والے جھوٹ اورفریب سے عوام کو گمراہ نہیں کرسکتے

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابرافتخار نے کہا کہ دیکھنے اورسننے کو بہت کچھ مل رہا ہے کہ نوازشریف کے ساتھ ڈیل یا اسے ڈھیل دی جارہی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ سب جھوٹ اور فریب ہے ، ایسی خبروں کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں اور نہ ہی ایسی خبریں‌ پھیلا کر قوم کو گمراہ کیا جاسکتا ہے

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ نوازشریف سے ڈیل کس بات کی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈیل اور ڈھیل کا تعلق فوج سے کیوں جوڑا جارا ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی کے لیے نہ کوئی ڈیل ہے اور نہ ڈھیل ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ بڑے بڑے جھوٹ سُن کر حیران ہوتے ہیں کہ کس طرح یکطرفہ ٹریفک چلائی جارہی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ آئندہ پاک فوج سے ایسی کوئی بات منسوب نہ کی جائے جس کا کوئی وجود نہ ہو

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو یہ جھوٹ اور پراپیگنڈہ پھیلارہے ہیں وہ بتائیں کہ ان کے پاس کیا ثبوت ہیں ، بس کسی کی خواہس پرایسی من گھڑت کہانیاں گھڑی جارہی ہیں جن کی کوئی حیثیت ہی نہیں‌

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ وہ منتخب حکومت کے ساتھ ہیں اور حکومت اور اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے . سول ملٹری تعلقات جتنے آج اچھے اوربہتر چل رہے ہیں شاید اس سے پہلے ایسی مثال نہ ملتی ہو

میجر جنرل بابرافتخار نے کہا کہ یہ تعلقات آگے بھی ایسے ہی چلتےرہیں گے اورشرپسند عناصرسُن لیں کہ وہ شرارتوں اور من گھڑت کہانیوں ، تبصروں اور تجزیوں‌ سے باز آجائیں

ادھر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاک فوج کے بیرونی اوراندورنی دشمنوں کوجانتے ہیں:سب نامُراد،سازشیں ،شرارتیں ناکام ہوں گی:ڈی جی آئی ایس پی آرنے پاک فوج کے خلاف ہونے والی شرارتوں،سازشوں اور خود ساختہ کہانیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب سُن لیں پاک فوج اس ملک اور اس ملک پاک کے اداروں کے خلاف بیرونی اور اندرونی سب دشمنوں کو جانتے ہیں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ سب نامُراد ہوچکے اور آئندہ بھی نامراد ہی ہوں گے

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ کچھ عرصے پاکستان کے اداروں کے خلاف منظم مہم چلائی جارہی ہے، جس کا مقصد اداروں کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے، ہم ایسی تمام کارروائیوں سے آگاہ ہیں،اداروں کو نشانہ بنانے والے پہلے بھی ناکام ہوئے تھے اور آئندہ بھی ناکام ہوں گے، عوام اور افواج پاکستان کے درمیابن رشتے میں دراڑ ڈالنے میں ناکامی ہوگی۔

اپنے پیغام میں میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ فروری 2021 میں معاہدے کے بعد ایل او سی پر پورا سال امن رہا، بھارتی الزامات ایک پولیٹیکل ایجنڈے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سال کی پہلی پریس کانفرنس میں خوش آمدید کہتا ہوں۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ‘بھارت کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ وہاں رہنے والے مقامی لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آئی، لیکن ساتھ ہی بھارتی فوجی قیادت کی جانب سے الزام تراشی اور جھوٹا پروپیگنڈا مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے توجہ ہٹانے کے مخصوص ایجنڈے کی طرف اشارہ کرتا ہے’۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ بھارتی فوج بے گناہ کشمیریوں کو نشانہ بنارہی ہے۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کا بدترین ماحصرہ اگست 2019 سے جاری ہے۔ بھارتی فوج دہشت گردی کے نام پر مظلوم کشمیریوں کو شہید کررہی ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی مظالم سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے، بھارت ایل او سی کے اردگرد بسنے والے لوگوں کو شہید کرچکا ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ 5 جنوری کے موقع پر کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ طاقت کا استعمال صرف ریاست کا استحقاق ہے۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کا بدترین ماحصرہ اگست 2019 سے جاری ہے۔ بھارتی فوج دہشت گردی کے نام پر مظلوم کشمیریوں کو شہید کررہی ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی مظالم سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے، بھارت ایل او سی کے اردگرد بسنے والے لوگوں کو شہید کرچکا ہے۔

مغربی بارڈر پر صورتحال تشویشناک

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ 2021 میں لائن آف کنٹرول کی صورت حال بہتر رہی لیکن مغربی بارڈر پر صورت حال تشویشناک رہی۔ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے اثرات پاکستان کی سیکیورٹی پر پڑے۔

امن کی باڑ ضرور مکمل ہوگی

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بارڈر مینجمنٹ کے تحت پاک افغان بارڈ پر باڑ لگانے کا کام 94 فیصد مکمل ہوچکا ہے، باڑ لگانے کا مقصد دونوں اطراف کے لوگوں کو محفوظ بنانا ہے، یہ امن کی باڑ ہے اور یہ ضرور مکمل ہوگی، اس باڑ کو لگانے میں ہمارے شہدا کا خون شامل ہے۔

ایک سال میں 60 ہزار آپریشن

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2021 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن کیا گیا، 2021 کے دوران ملک بھر میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر 60 ہزار آپریشن کئے گئے، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گرد تنظیموں کا صفایا کیا،انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے 890 تھریٹ الرٹ جاری کیے، 70فیصد ممکنہ دہشتگردی کے واقعات کو روکنے میں مدد حاصل ہوئی۔

افغانستان کی صورت حال

میجر جنرل افغانستان کی موجودہ صورتحال سنگین انسانی المیہ کے جنم دے سکتی ہے، افغانستان کی صورتحال کا اثر پاکستان پر بھی پڑسکتا ہے، پاکستان افغانستان حکومتی سطح پر دونوں طرف ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

طاقت کا استعمال صرف ریاست کا استحقاق

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی مسلح فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، طاقت کا استعمال صرف ریاست کا استحقاق ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!