fbpx

نیوزی لینڈ کی ٹیم کی واپسی، سچ سامنے آ ہی گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

نیوزی لینڈ کی ٹیم کی واپسی، سچ سامنے آ ہی گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

جب نیوزی لینڈ کی ٹیم نے اپنا دورہ کینسل کرکے واپس جانے کا فیصلہ کیا تھا تو کہا تھا کہ بظاہر جو وجوہات ہمیں بتائی جا رہی ہیں یہ پورا سچ نہیں ہے۔اور اب اس بات کے ثبوت بھی سامنے آ رہے ہیں کہ اس تمام معاملے کے پیچھے ہمارا دیرینہ دشمن اور ہمسایہ بھارت ملوث ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت نے ایسا کیوں کیا ؟کیا پاکستان کو آئی سی سی میں یہ کیس لیکر جانے سے کوئی فائدہ ہو سکتا ہے؟ پہلے بات کر لیتے ہیں کہ ابھی تک وہ کون سے ثبوت ہمارے سامنے آئے ہیں جو یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اس تمام کارستانی کے پیچھے بھارت ملوث تھا۔یہ سازش دراصل شروع ہوئی تھی ایک فیس بک پوسٹ سے جو انیس اگست کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے نام سے بنے ایک جعلی اکاونٹ سے کی گئی تھی۔ اس پوسٹ میں لکھا گیا کہ۔۔نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ اور حکومت اپنی ٹیم کو پاکستان نہ بھیجیں کیونکہ پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال ٹھیک نہیں ہے۔ داعش پاکستان میں کارروائی کرنے کی تیاری کر ہی ہے اور وہ ٹارگٹ نیوزی لینڈ کی ٹیم بھی ہو سکتی ہے میں جانتا ہوں کہ داعش مجھ سے ناراض ہو گی اس پوسٹ کے بعد۔ اب یہ نیوزی لینڈ کی حکومت پر ہے کہ وہ غور سے سوچیں۔

اس کے بعد اکیس اگست کو Abhinandan Mishraجو کہ بھارتی اخبارSunday Guardianکے بیورو چیف ہیں انہوں نے ایک آرٹیکل شائع کیا جس میں لکھا گیا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو پاکستان میں دہشتگرد حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ آرٹیکل اسی جعلی فیس بک پوسٹ کو بنیاد بنا کر لکھا گیا تھا اور Abhinandan Mishraکے بارے میں سب جانتے ہیں کہ اس کے امر اللہ صالح کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔اس کے بعد چوبیس اگست کو نیوزی لینڈ کے کھلاڑیMartin Guptill کی بیوی کوایک ای میل ملتی ہے جو کہ tehreeklabaik@protonmail.com
کی آئی ڈی سے بھیجی گئی تھی۔ اس ای میل میں یہ دھمکی دی گئی کہ مارٹن کو پاکستان میں قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن جب اس ای میل کی تحقیقات کی گئی تو پتا چلا کہ یہ ای میل کسی بھی سوشل میڈیا نیٹ ورک سے جڑی ہوئی نہیں ہوئی تھی۔ اور وہ ای میل اکاﺅنٹ چوبیس اگست کو رات ایک بج کر پانچ منٹ پر بنایا گیا تھا اور بنانے کے چند گھنٹوں کے بعد صبح گیارہ بج کر
59 منٹ پرMartin Guptillکی بیوی کو اس سے ای میل کی جاتی ہے۔ اور یہ ایک اکلوتی ای میل ہے جو اس اکاونٹ سے کی گئی یعنی اس سے پہلے یا اس کے بعد ابھی تک اس اکاونٹ سے کوئی اور ای میل کی ہی نہیں گئی۔protonmailدراصل ایکSecure serviceہے۔ جس کی تفصیلات آسانی سے مہیا نہیں ہوتیں۔ بہر حال اس کے لئے انٹر پول سے درخواست کی گئی ہے اور وہ ہی ہمیں کچھ مدد کر سکتے ہیں۔لیکن ان تمام دھمکیوں کے باوجود نیوزی لینڈ نے یہ دورہ کینسل نہیں کیا تھا اور گیارہ ستمبر کو نیوزی لینڈ کی ٹیم چارٹرڈ فلائٹ سے پاکستان پہنچ بھی گئی تھی۔ اور T20ٹیم کے ممبرز بارہ ستمبر کو یہاں پہنچے۔ اس کے بعد ان کو یہاں ہائی لیول کی سیکیورٹی دی گئی۔ سرینا ہوٹل میں ان کو الگ ایک پورا ونگ دیا گیا تھا۔ جہاں ٹیم اور سیکیورٹی فورسز کے علاوہ کسی کو داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ Civil arm forces, police, rangers اور سیکیورٹی ایجنسیز سب مل کر ان کو سیکیورٹی فراہم کر رہے تھے۔ تقریبا ایک ہزار سے زیادہ لوگ اس ٹیم کو سیکیورٹی مہیا کر رہے تھے۔ دو ہیلی کاپٹرز بھی ان کی سیکیورٹی کے لئے فراہم کیئے گئے۔ آخری بار اتنی سیکیورٹی اس وقت کی گئی تھی جب محمد بن سلمان پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ اس کے بعد پریکٹس سیشن کا شیڈول بھی جاری ہوا دونوں ٹیموں نے دھمکیوں کے بعد باوجود دو دن پریکٹس بھی کی لیکن کوئی الرٹ رپورٹ نہیں ہوا اس کے بعد ایک دن چھٹی کا بھی گزارا لیکن کوئی سیکیورٹی ایشو سامنے نہیں آیا۔

لیکن سترہ ستمبر کو میچ سے پہلے صبح ساڑھے دس بجے نیوزی لینڈ کی ٹیم یہ بتاتی ہے کہ ان کی حکومت کی طرف سے تھریٹ الرٹ آیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی حکومت کی ہدایت پر یہ دورہ منسوخ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد پی سی بی کے حکام ، وزارت داخلہ کی ٹیم اور ایجنسیوں کے لوگ ان کے پاس بھی گئے اور درخواست کی کہ آپ لوگ ہم سے تھریٹ الرٹ شیئر کریں لیکن انہوں نے ایسا کوئی ثبوت شئیر نہیں کیا۔حالت تو یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان جو اس وقت ایس سی او کے سمٹ میں مصروف تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم Jacinda Ardernسے بات بھی کی کہ اگر وہ اس وقت دورہ کینسل کریں گے تواس سے عوامی سطح پر تلخی پیدا ہو گی لیکنJacinda Ardernنے کہا کہ ان کے پاس سنجیدہ انفارمیشن ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو ٹارگٹ کیا جائے گا۔ لیکن وہ سنجیدہ انفارمیشن آج تک ہم سے شئیر نہیں کی گئی۔ اب جب دورہ کینسل ہونے اور ٹیم کے واپس جانے کے بعد ہمارے اداروں نے تحقیقات کیں تو سب کچھ کھل کر سامنے آگیا کہ ان یہ دھمکی آمیز ای میلز کےپیچھے سب کچھ کیا دہرا بھارت کا ہے۔یہ ای میل بھارتی شہر ممبئی سے بھیجی گئیں جس میں وی پی این استعمال کرتے ہوئے سنگا پور کی لوکیشن دکھائی گئی۔ ایک ای میل اٹھارہ ستمبر کو بھی سامنے آئی۔ اس کے بارے میں Interpol Wellingtonنےانٹر پول اسلام آباد کو بتایا کہ ہمیں Hamzaafridi7899@gmail.com کے ای میل اکاﺅنٹ سے ایک ای میل موصول ہوئی ہے۔ جو کہ نیوز ی لینڈ کے وقت کے مطابق 18 ستمبر 6 بج کر 25 منٹ پر کی گئی تھی۔ جبکہ پاکستانی وقت کے مطابق یہ ای میل 17 ستمبر 11 بج کر 25 منٹ پر بھیجی گئی۔جس میں دھمکی دی گئی کہ۔۔نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم آپ نے پاکستان جا کر غلطی کی اب آپ دیکھیں گے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوتا ہے ہوٹل سے فلائٹ کے راستے میں کہیں پر بھی بم لگایا جائے گا میرے لوگ آپ کو معاف نہیں کریں گے۔ وہ آرہے ہیں۔ پاکستان زندہ باد۔ اللہ اکبر۔

یہ ای میل بھی آئی ڈی بنانے کے پندرہ منٹ بعد بھیجی گئی۔ ای میل بھارت سے کی گئی تھی لیکن وی پی این کا استعمال کرتے ہوئے سنگاپور کی لوکیشن شو کی گئی تھی۔ کیونکہ یہ ڈیوائس جس سے ای میل بھیجی گئی تھی اس ڈیوائس پر 13 اور آئی ڈیز بنے ہوئے ہیں اور وہ تمام آئی ڈیز ہندی ناموں پر ہیں۔ زیادہ تر ای میلز ہندی فلم انڈسٹریز اور ڈراموں کے نام پر بنائی گئی ہیں۔ صرف ایک ای میل پر حمزہ کا نام ڈالا گیا ہے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ یہ ای میل تھریٹ پاکستان سے آیا ہے ۔یہ موبائل ڈیوائس بھارت میں اگست 2019 میں لانچ کی گئی تھی موبائل سم 25 ستمبر 2019 کو انڈیا میں رجسٹرڈ ہوئی اس ای میل کو استعمال کرنے والے شخص کا نام اوم پرکاش مشرا ہے جس کو تعلق ممبئی سے ہے۔ لیکن اس ای میل کے ٹائم پر آپ غور کریں تو صاف پتہ چل جاتا ہے کہ اس ای میل کا دورہ کینسل ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ یہ دورہ کینسل کرنے کے بعد ای میل کی گئی تھی۔ تاکہ اس تمام کام میں پاکستان کو ملوث کیا جا سکے۔اب اس حوالے سے مزید ثبوت حاصل کرنے کے لئے وزارت داخلہ نے ایف آئی آر درج کرکے انٹرپول سے بھی رابطہ کرلیا ہے۔ تاکہ معاملے کو بے نقاب کیا جا سکے۔ کیونکہ نیوزی لینڈ کے بعد ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کو بھی اسی طرح کے ایک ای میل اکاونٹ سے ایک ای میل کی گئی ہے۔ جوehshanullahehshan@protonmail.comکے اکاونٹ سے کی گئی ہے اور اس ای میل آئی ڈی میں اگر آپ احسان کے سپیلنگ پر غور کریں تو آپ کو خود پتہ چل جائے گا کہ یہ کسی ہندی بولنے والے کے Spellings تو ہو سکتے ہیں لیکن اردو بولنے والے احسان کے یہ Spellings
کبھی استعمال نہیں کرتے۔ویسے بھی ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ چند ماہ پہلے جب آزاد کشمیر میں کے پی ایل کھیلی گئی تھی تو بھارت نے کھلی دھمکی دی کہ اس ٹورنا منٹ میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں اور آفیشلز کو بھارت میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کے مقابلوں کو روکنے کے لئے بھارت کس حد تک جا سکتا ہے۔
لیکن پاکستانیوں کو اس وقت زیادہ افسوس اس لئے ہے کہ جب نیوزی لینڈ پر دہشت گردی کا حملہ ہوا تھا تو اس وقت وہاں موجود ہمارے کرکٹرز اور ہماری قوم نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گی تھی لیکن ان کی ٹیم ان جعلی ای میلز کے ڈر سے ہی واپس چلی گئی۔اب بات آتی ہے پاکستان کرکٹ بورڈ اور ہماری حکومت کے رد عمل کی۔ رمیز راجہ کا اس بارے میں کافی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اپنی ٹوئیٹ کے آخر میں انہوں نے کہا تھا کہ نیوزی لینڈ کس دنیا میں رہ رہا ہے؟ نیوزی لینڈ ہمیں اب آئی سی سی میں سنے گا۔

اس کے علاوہ ہمارے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ۔۔ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے دوروں کی منسوخی سے پاکستان ٹیلی ویژن کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ دونوں بورڈز کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے وکلا سے مشورہ کریں گے۔اب سوال یہ آتا ہے کہ کیا ہمیں آئی سی سی میں جانے سے یا پھر بورڈز کے خلاف قانونی کاروائی سے کوئی فائدہ ہو گا؟؟ سب سے پہلے تو ابھی یہ بھی کلئیر نہیں ہے کہ قانونی کاروائی کرے گا کون؟ حکومت کرے گی، پاکستان کرکٹ بورڈ کرے گا یا پھر پی ٹی وی؟اس کے علاوہ ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اگر کوئی کرکٹ بورڈ اپنی حکومت کی ہدایت پر کوئی سیریز کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو پھر اس میں آئی سی سی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔اس کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ انڈین کرکٹ بورڈ پاکستان کے ساتھ نہ کھیلنے کا ہمیشہ ایک ہی جواز پیش کرتا ہے کہ اسے اپنی حکومت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے انڈیا کے ساتھICC future tour programکے تحت ہونے والی چھ سیریز نہ ہونے پرجو آئی سی سی میں اپنا کیس کیا ہوا تھا کہ سیریز کینسل ہونے سے جو ہمارا نقصان ہوا ہے چھ کروڑ 30 لاکھ ڈالرز کے مالی نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس کیس میں شکست ہو گئی تھی اور ایک بھی پیسہ ملنے کے بجائے ہمیں وکیلوں کی فیس کے طور پر 20 لاکھ ڈالر ادا کرنے پڑے تھے۔اس لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ ایسے کسی فراڈ میں آنے سے بچیں اس سے ہمارے سیاستدانوں کو سیاسی فائدہ تو ہو سکتا ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہوگا بلکہ ہمیں مزید نقصان ہی ہو گا اور ہمارا ٹائم بھی ضائع ہو گا۔ کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ ابھی صرف ٹیم کی کارکردگی پرتوجہ دیں تاکہ آنے والے ورلڈ کپ میں خود کو ثابت کر سکیں کیونکہ دورہ کینسل ہونے سے جو نقصان ہونا تھا وہ اب ہو چکا ہے۔