جج ویڈیو سکینڈل نون لیگ کی اعلیٰ قیادت کے خلاف سائبر کرائم کے تحت مقدمہ درج

0
51

نیب کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو بنانے اور ان کے خلاف پراپیگنڈے کرنے پر مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔ایف آئی آر میں ن لیگ کی اعلیٰ قیادت شامل

تفصیلات کے مطابق جج ارشد ملک کی شکایت پر(ایف آئی اے) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سائبر کرائم ونگ نے الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا

مقدمے میں مریم نواز، شہبازشریف، شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف ، عظمیٰ بخاری، پرویز رشید، احسن اقبال و دیگر کو شامل کیا گیا۔ ایف آر کے متن میں درج ہے ہے کہ مریم نواز نے ویڈیو ہیر پھیر کر کے دکھائی اور اسے ٹیمپر کر کے الیکٹرانک فارجری بھی کی۔

جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سامنے لانے پر مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔

اے آر وائی نیوز اسلام آباد کے بیورو چیف صابر شاکر کے مطابق جج ارشد ملک کی شکایت پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سائبر کرائم ونگ نے الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔

مقدمے میں مریم نواز، شہبازشریف، شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف ، عظمیٰ بخاری، پرویز رشید، احسن اقبال و دیگر کو نامزد کیا گیا۔ ایف آر کے متن میں لکھا گیا ہے کہ مریم نواز نے ویڈیو ہیر پھیر کر کے دکھائی اور اسے ٹیمپر کر کے الیکٹرانک فارجری بھی کی۔

مزید پڑھیں: جج ویڈیو اسکینڈل میں بلیک میلنگ پر دس سال سزا ہوسکتی ہے: شہزاد اکبر

ایف آئی آر دائر کیے جانے کے بعدویڈیو اسکینڈل میں ایک نیا موڑ تب آیا میاں رضا نامی نیا کردار بھی سامنے آیا جس نے ویڈیو میاں طارق سے خرید کر اسے آگے فروخت کیا، اس سلسلے میں ایف آئی اے نے دبئی فرار ہونے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے میاں طارق کو گرفتارکیا۔

متن میں کہا تھا ہے کہ جب ملتان میں ڈسٹرکٹ جج تھا تو میاں طارق نےغیراخلاقی ویڈیوبنائی، 5ماہ پہلے میاں طارق نےویڈیو مسلم لیگ ن کے رہنمامیاں رضا کو فروخت کی، ویڈیو کے ذریعے ناصرجنجوعہ،ناصربٹ،خرم یوسف،مہرگیلانی نےبلیک میل کیا اور کہا کہ نوازشریف کی مدد کرو۔

نیب جج ارشد ملک نے مریم نواز کے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ اس نواز شریف کے خلاف فیصلے میں ان پر دباؤ ڈالا گیا.

Leave a reply