fbpx

عثمان مرزا کیس،لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو عدالت میں چلا دی گئی

عثمان مرزا کیس،لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو عدالت میں چلا دی گئی
سیشن کورٹ اسلام آباد میں عثمان مرزا کی جانب سے لڑکا لڑکی تشدد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

متاثرہ لڑکا اور لڑکی سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوگئے ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے کیس کی سماعت کی سیشن کورٹ اسلام آباد میں مثاثرہ لڑکے کے بیان پر پراسیکیوٹر نے جرح کی پراسیکیوٹر کی جانب سے ویڈیو کمرہ عدالت میں چلائے جانے کی استدعا کی گئی، ویڈیو چلانے کیلئے جج نے کمرہ عدالت خالی کروا لیا

وکیل نے متاثرہ لڑکی سے سوال کیا کہ کیا آپ نے بیان دینے کے لیے ملزم سے ایک لاکھ روپے لیا تھا؟ لڑکی نے جواب دیا کہ نہیں میں نے کوئی پیسہ کسی سے نہیں لیا واقعے کے وقت میں گھر میں رہتی تھی کیونکہ کوئی نوکری نہیں کرتی تھی، بتا چکی ہوں کہ پولیس نے مجھ سے کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا لگوایا،نکاح کی تاریخ یاد نہیں، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد نکاح میں تھی،ویڈیو وائرل ہونے سے قبل میرا رشتہ ہو چکا تھا،میں اور شوہر رشتہ دار نہیں تھے، میری ارینج میرج ہوئی تھی کوئی بیان نہیں دیا ،نہیں معلوم کس کو سزائے موت ہوسکتی ہے، نہیں معلوم ایف آئی اے کے ماہرین نے وائرل ویڈیو کو اصل قرار دیا تھا،میری کبھی آئی جی اسلام آباد اور کسی بھی پولیس افسر سے ملاقات نہیں ہوئی میں نے آج تک کسی سے کوئی پیسے لیے ہی نہیں،

وکیل نے عدالت میں کہا کہ استدعا ہے کہ متاثرہ لڑکا لڑکی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے،وکیل نے جرح کرتے ہوئے لڑکی سے سوال کیا کہ ایف آئی اے کا عملہ کہتا ہے کہ ویڈیو میں آواز اور موجودگی آپ کی ہے ، جس پر متاثرہ لڑکی نے کہا کہ دنیا میں 7 چہروں کے لوگ ایک طرح کے ہوتے ہیں، وکیل نے کہا کہ سات چہرے تو ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن آواز کیسے آپ کی ہے؟ پولیس نے کس جگہ آپکے دستخط اورانگوٹھے لیے؟ آپ والدین کا نام لے رہی ہیں، اس وقت بھی والدین ہوتے تو یہ واقعہ نہ ہوتا،جس اسسٹنٹ کمشنر نے اپ کا بیان ریکارڈ کیا وہ مرد تھا یا عورت؟

لڑکی نے بتایا کہ اس بی ایس کمپیوٹر سائنس کررکھا ہے ،وقوعہ کے روز کسی نے میرے ساتھ زیادتی نہیں کی،وقوعہ کے روز اپارٹمنٹ نہیں گئی گھر میں تھی،کمرے میں نظر آنے والی لڑکی کو میں نہیں جانتی نہ ہی وائرل وڈیو دیکھی ہے۔لڑکی کے بیان پر جج نے کمرہ عدالت میں دوبارہ وڈیو چلانے کا حکم دے دیا جبکہ صحافیوں اورحیرمتعلقہ افراد کو کمرہ عدالت سے نکال دیا گیا ،لڑکی نے کہا کہ میں اسد رضا کے ساتھ رات گزارنے کے لیے اپارٹمنٹ نہیں گئی تھی ہماری شادی پسند سے نہیں بلکہ خاندان کی رضامندی سے ہوئی اسد میرا رشتہ دار نہیں تھا ،میں نہیں جانتی کہ وائرل وڈیو کی وجہ سے کچھ لوگ جیل میں ہیں میں نوکری تلاش نہیں کررہی تھی میں نے کوئی بیان ہی نہیں دیا مجھے کچھ پتہ نہیں ایف آئی اے نے جس ویڈیو کو درست قرار دیا میں اسے نہیں جانتی میری اس کیس کے حوالے سے کسی بھی پولیس افسر سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی نہ ہی میں آئی جی اسلام آباد اور دوسرے کسی پولیس افسر سے ملی ہوں ۔

پراسکیوٹررانا حسن عباس نے مثاثرہ لڑکے اسد کے بیان پر جرح کی۔ متاثرہ لڑکے اسد نے بتایا کہ میری تعلیم ایف ایس سی ہے اور کوئی کام نہیں کرتا۔ جب یہ واقعہ ہوا تو میں پراپرٹی کا کام کرتا تھا کیس شروع ہوا تو پراپرٹی کا کام چھوڑ دیا،میرے مالی حالات بہت خراب ہیں اور والدین میرا خرچہ اٹھارہے ہیں ، مقدمے کے اندراج کے بعد تھانہ گولڑہ میں 4 سے 5 دفعہ گیا تھا۔ اسد نے بتایا کہ 8 جولائی کو میں نے بیان ریکارڈ نہیں کرایا بلکہ انسپکٹر شفقت نے صرف سادہ پیپر پر دستخط لیے تھے ۔پراسیکیوٹر نے استفسار کیا کہ بیان حلفی میں آپ کہتے ہیں ویڈیو میں نظر آنے والے وہ ملزمان نہیں، کیا آپ کو واقعہ یاد ہے،اسد رضا نے بتایا کہ جی بالکل مجھے وہ واقعہ یاد ہے۔ پراسیکیوٹر نے استفسار کیا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں اس دن کیا ہوا تھا۔ لڑکے نے کہا کہ ابھی میں اس واقعہ کی تفصیل نہیں بتا سکتا، نہ یاد ہے کہ میں نے اور سندس نے کس رنگ کی شرٹ پہن رکھی تھی۔

بعد ازاں ملزم کے وکیل شیر افضل مروت نے متاثرہ لڑکے پر جرح شروع کی۔متاثرہ اسد رضا نے موقف اپنایا کہ ویڈیو میں ہونے والی زیادتی جیسا ہمارے ساتھ کوئی سین نہیں ہوا،بیان بدلنے کے کوئی پیسے نہیں لیے،میں عثمان مرزا سمیت دیگر ملزمان کو نہیں جانتا، وقوعہ کے روز میں اس اپارٹمنٹ نہیں گیا تھا،پولیس نے انگھوٹھےاور دستخط لینے سے متعلق نہ بتایا نہ ہم نے پوچھا،ملزمان نے عدالت میں اپنے حق میں بیان حلفی دینے کا نہیں کہا ، بیان حلفی دینا میرا اپنا فیصلہ تھا لڑکے نے بتایا کہ بیرون ملک جانے کا پروگرام ابھی نہیں بنایا،پانچ سال سے پروگرام بنا رہے تھے ویڈیو میں نظر آنے والا میں نہیں ہوں وکیل نے بار بار سوال کیا کہ ویڈیو میں آپ کی طرح کا نظر آنے والا کون ہے ؟اسد نے بتایا کہ میں نہ خود نا ایف آئی اے رپورٹ کے حوالے سے جانتا ہوں کہ ویڈیو میں نظر آنے والا کون ہے، چھ جولائی2021 سے 11 جنوری 2022 تک کبھی نہیں کہا کہ یہ ہمارا کیس ہے ہم نے شروع سے ہی کہا تھا کیس نہیں کرنا چاہتےوکیل نے استفسار کیا کہ ایف آئی آر کے اندراج پر پولیس کو کیوں نہیں بتایا کہ یہ کیس ہمارانہیں ہے؟ متاثرہ لڑکے نے کہا کہ میں جواب نہیں دینا چاہتا۔

سیشن کورٹ اسلام آباد میں مثاثرہ لڑکے کے بیان پر پراسیکیوٹر کی جرح مکمل کر لی گئی، جرح مکمل ہونے کے بعد کمرہ عدالت کھول دیا گیا ، سیشن کورٹ اسلام آباد میں عثمان مرزا تشدد کیس کی سماعت 25جنوری تک ملتوی کر دی گئی سیشن کورٹ اسلام آباد میں متاثرہ لڑکے اور لڑکی پر وکلا نے جرح مکمل کر لی سیشن کورٹ اسلام آباد میں آئندہ سماعت پر مقدمہ کے تفتیشی افسر پر جرح ہو گی

گزشتہ روز عدالت نے متاثرہ لڑکے اور لڑکی کے پیش نہ ہونے پر وارنٹ جاری کئے تھے عدالت نے ایس ایس پی آپریشن کو متاثرہ لڑکا لڑکی کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا، آج لڑکا اور لڑکی وارنٹ گرفتاری جانے ہونے کے بعد عدالت میں پیش ہوئے

واضح رہے کہ چند روز قبل اسلام آبا د کے سیکٹر ای الیون میں لڑکا لڑکی تشدد کیس متاثرہ لڑکی اپنے بیان سے منحرف ہو گئی، متاثرہ لڑکے اور لڑکی نے ملزمان کو پہنچاننے سے انکار کردیا ،عثمان مرزا زیادتی کیس میں مدعی لڑکے اور لڑکی اپنے بیان سے مکر گئے ،متاثرہ لڑکے اور لڑکی نے ٹرائل کورٹ میں بیان دے دیا ،عدالت میں بیان حلفی جمع کرا دیا گیا ،متاثرہ لڑکی نے بیان دیا کہ پولیس نے سارا معاملہ خود بنایا ہے،میں نے بیان حلفی کسی کے دباو میں آکر نہیں دیا، کسی بھی ملزم کو نہ شناخت کیا اور نہ ہی کسی پیپر پر دستخط کیے

ملزم عثمان مرزا و دیگر کو پولیس نے گرفتار کر رکھا ہے، ملزمان کے خلاف مقدمات درج ہو چکے ہیں، متاثرہ لڑکی اور لڑکے کی شادی ہو گئی ہے،

موصول ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمان نے تشدد کر کے لڑکی کی شرٹ اتروا دی اس دوران لڑکی انکی منتیں کرتی رہی تا ہم ملزمان باز نہ آئے، آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان نے وقوعہ کا فوری نوٹس لیا اور ایس ایس پی آپریشنز کو ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا گرفتار ملزمان میں عثمان مرزا، فرحان اور عطاء الرحمان شامل ہیں۔

کی یاد تازہ،سفاک باپ نے بیٹا نہ ہونے پر 3 کمسن بیٹیوں کو قتل کر دیا

پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب

نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے والدین بھی عدالت پہنچ گئے

نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے ریمانڈ میں توسیع

نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ریاست کو مدعی بننا چاہئے،صارفین

نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،جوڑے کے وارنٹ گرفتارری جاری