شمالی کوریا کا مزید 3 بیلسٹک میزائل کا تجربہ:اقوام متحدہ ،ترکی،جاپان اورامریکہ کی طرف سے مذمت

0
34

سئیول:شمالی کوریا نے جاپان کی ساحلی حدود کی جانب مختصر فاصلے تک مار کرنے والے مزید 3 بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ ، جاپان اور ترکی سمیت دیگر کئی ملکوں نے ان میزائل تجربات کی مذمت کی ہے

غیرملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق شمالی کوریا نے بحیرہ جاپان کی طرف تین مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ جاپان کی وزارت دفاع نے کہا کہ پہلا بیلسٹک میزائل ہفتہ کی صبح مقامی وقت کے مطابق صبح 8:00 بجے جبکہ دوسرا تقریباً 08:14 بجے اور تیسرا میزائل ایک منٹ کے بعد ہی فائر کیا گیا۔

تینوں میزائل دارالحکومت پیانگ یانگ کے مضافاتی علاقوں سے فائر کیے گئے اور 100 کلومیٹر (62 میل) کی بلندی پر پہنچے اور اندازے کے مطابق 350 کلومیٹر (217 میل) تک پرواز کی۔

وزارت اور خبر رساں اداروں کے مطابق میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر یعنی بحیرہ جاپان میں گرے۔ وزارت نے کہا کہ میزائلوں کے پرواز کے راستے کے آس پاس کے ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کو انتباہی معلومات فراہم کی گئیں لیکن “اس وقت” کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔

ترکی نے شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربے کی مذمت کی ہے۔وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل تجربہ اب سے پہلے کے تجربات کی طرح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "ایک تواتر سے فائر کئے جانے والے یہ میزائل اس بات کی کھلی عکاسی کرتے ہیں کہ شمالی کوریا بین الاقوامی ذمہ داریوں کے ساتھ غیر ہم آہنگ روّیے پر مصر ہے” ۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ” شمالی کوریا کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں کی پابندی کرنے اور علاقے میں مزید تناو پیدا کرنے والے ہر نوعیت کے روویوں سے دُور رہنا چاہیے”۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس نے بھی شمالی کوریا کے طویل مسافت اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربے کی مذمت کی ہے اور پیانگ یانگ انتظامیہ سےتحریکی کاروائیاں بند کرنے کی اپیل کی ہے۔گٹرس نے بین الاقوامی برادری سے اس سنجیدہ سطح کے امتحان کے مقابل متحد ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کا نیا میزائل تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں کی نہایت ڈھٹائی کے ساتھ کی گئی خلاف ورزی ہے اور اس اقدام کے پیدا کردہ تناو میں خطرناک شکل میں اضافہ ہو گا۔

امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے بھی موضوع سے متعلق جاری کردہ تحریری بیان میں کہا ہے کہ تمام ممالک کا شمالی کوریا کو جوہری اسلحے کے حصول کے نتائج سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے تحریکی اقدامات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے پیش کرنے اور کوریا ڈیموکریٹک عوامی جمہوریہ سے حساب پوچھنے کے لئے ہم زیادہ سخت تدابیر اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکہ کی وزارت دفاع پینٹاگون کی ترجمان ڈانا وائٹ نے بھی اپنے تحریری بیان میں پیانگ یانگ انتظامیہ کے بین البراعظمی میزائل تجربے کی مذمت کی ہے۔وائٹ نے کہا ہے کہ امریکہ علاقے پر بغور نگاہ رکھے ہوئے ہے اور یہ تجربہ شمالی کوریا کے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے کھلا خطرہ بننے کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے اپنی ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو دکھانے کے لئے جمہوریہ کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کی ہیں۔

دوسری طرف میزائل تجربے کی وجہ سے امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔اجلاس آج مقامی وقت کے مطابق شام 3 بجے منعقد ہو گا۔واضح رہے کہ شمالی کوریا نے کل طویل مسافت کے بین الاقوامی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Leave a reply