fbpx

گھریلو تشدد ،تحریر: ندرت حامد

تعلیم کی کمی یا تربیت کا فقدان ۔ دین سے دوری یا غلط صحبت کا شکار ہمارا معاشرہ ظلم و بربریت کی جیتی جاگتی مثال بنتا جا رہا ہے۔ اور اس ظلم و جبر کا نشانہ ہمیشہ عورت ہی بنی ۔ مرد اپنی ہر بات، لین دین کاغصہ بیچاری اس عورت پہ نکالتا ہے جو اس کے گھر میں بیٹھی ہوتی ہے ۔اسلامی معاشرہ نے، دین اسلام نے عورت کو عزت دی ۔ اس کا مقام بلند کیا ۔ماں کا روپ دیا اور قدموں میں جنت رکھ دی ۔ بیٹی کا درجہ دیا اور رحمت بنا ڈالا ،بہن کا درجہ دیا تو محبت کا گہوارہ بنا دیا ۔بیوی کا درجہ دیا گھر کے مرد کے دل کا سکون بنا دیا ۔ مگر یہی مرد جب عورت پہ مار پیٹ ظلم وجبر اور تشدد کی انتہا تک چلا جاتا ہے یہ بھی بھول جاتا ہے کہ وہ بھی انسان ہے اس کے اندر بھی روح ہے ۔

ہمارے معاشرے عورت کو ہمیشہ چپ کا سبق دیا جاتا ہے ۔رخصت کرتے وقت یہ تلقین کی جاتی ہے کہ اب یہی تمہارا گھر ہے ۔ جو بھی ہو واپسی کا سوچنا بھی مت ۔ اب اس گھر سے صرف تمہارا جنازہ ہی نکلے گا ۔ کبھی سننے میں آتا ہے شوہر نے جھگڑے کے دوران مار پیٹ کی اور بیوی کا بازو ٹوٹ گیا ۔کبھی جھگڑے میں سر پھوڑ دیا جاتا ہے تو کبھی جسم میں لال نیلے نشان پڑ جاتے ہیں ۔

ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے کئے گئے سروے میں بتایا گیا پاکستان میں 10سے 20 فیصد عورتیں کسی نا کسی ظلم و زیادتی کا شکار ہیں ۔ پاکستان میں ہر دن 19 سے 20 گھریلو تشدد کے واقعات رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور بہت سے تشدد کے واقعات ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہی نہیں ہوتے ۔ پاکستان میں ہر سال 5000 عورتیں گھریلو تشدد میں قتل کی جاتی ہیں ۔ یہی نہیں آئے روز سوشل میڈیا پہ نت نئی گھریلو تشدد کی ویڈیوز سامنے اتی رہتی ہیں جہاں کبھی شوہر بیوی پہ بہمانہ تشدد کر رہا ہوتا ہے تو کہیں بھائی وراثت میں حصہ مانگنے پر طاقت کے بل پر بہن کا منہ بند کرتا نظر آتا ہے ۔ہر روز ایک ٹرینڈ چل رہا ہوتا ہے جسٹس فار قرات العین ۔جسٹس فار صائمہ جسٹس فار بشری فلاں فلاں ۔جو ہمارے معاشرے کی بے حصی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ گھریلو تشدد میں عورتیں مختلف نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں ۔ اور یوں وہ خود کیلئے بھی دوسروں کی محتاج ہو جاتی ہیں ۔

گھریلو تشدد میں عورتیں ڈیریشن اضطرابی کیفیات سے دو چارنظر آتی ہیں۔گھریلو تشدد کا اثر بچوں کی صحت پہ بھی پڑتا ہے وہ زندگی کے کی میدان میں باقیوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں تعلیمی لحاظ سے بھی کمزور ہوتے ہیں ۔خدارا عورتوں پہ ظلم و زیادتی کی انتہا کی بجائے انہیں وہ درجہ دیں جو انکا حق ہے جو اسلام نے انکو دیا۔ بحیثیت خاندان پر امن قوم بنیں اور پر امن زندگی گزاریں ۔ گھریلو تشدد جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہمارے معاشرے کی اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت کی ضرورت پر زور دیا جانا چاہیے پاکستانی معاشرے کی اصلاح صرف اسلامی قوانین کو نافذ العمل کرنے سے ہی ممکن ہے نہ کہ مغرب کی تقلید کرنے سے .مرد حضرات کو چاہئے کہ ہر بات کا غصہ بیوی پر نکالنے کی بجائے اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ عورت کو بھی انسان سمجھا جائے .دین اسلام کی تعلیمات کو خود بھی اپنی زندگی میں نافذ کرکے اپنے گھر کو ایک مثالی خاندان بنایا جائے اس کے بغیر ہم مضبوط، پرسکون اور جنت نظیر خاندان اور گھر کا تصور نہیں کرسکتے،یہی آخری آپشن ہے

کرونا کے مریض صحتیاب ہونے کے بعد کب تک کریں جسمانی تعلقات قائم کرنے سے پرہیز؟

کرونا کا خوف،60 سالہ مریض کو 4 گھنٹے میں 3 ہسپتالوں میں کیا گیا ریفر،پھر ہوئی ایمبولینس میں موت

کرونا کے بہانے بھارت میں مسلمان نشانہ،بیان دینے پر مودی نے ہندو تنظیم کے سربراہ کو جیل بھجوا دیا

مودی کے گجرات میں کرونا کے بہانے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی

لاہور کے علاقے سے کٹی ہوئی دو ٹانگیں کچرا کنڈی سے برآمد

گائے ذبیحہ کے نام پر بھارت میں مسلمانوں کو ہزاروں افراد کی موجودگی میں زنجیرمیں جکڑ کر زندہ جلا دیا گیا