عمر خیام کون تھا؟ تحریر: آصف شاہ خان

0
52


ہمارے ہاں بہت سی شخصیات ایسی ہیں جن کی اصل شہرت ہم نہیں جانتے ہیں اور ہمیں ان شخصیات کے صرف وہی کارنامے جانتے ہیں جو ان شخصیات کی زندگی اور ان کی شہرت میں ثانوی مقام رکھتے ہیں۔۔۔
آؤ چلتے ہیں تخیلات کی دنیا میں اور عمر خیام پر اپنی بحث شروع کرنے سے پہلے ایک مثال لیتے ہیں ۔۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کو دیکھیں۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا نام سن کر ہمارے ذہنوں میں شاعری آتی ہے، اس میں شک نہیں کہ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری لاجواب ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری کو بھی جس وجہ سے شہرت حاصل ہے وہ اس کا فلسفہ ہے۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ بیک وقت ایک عظیم فلسفی، ایک کامیاب وکیل⁦، ایک باستقامت رہنما اور اعلیٰ پائے کا شاعر تھا لیکن ہم دیکھتے ہیں لوگوں کے ذہنوں میں صرف اس کی شاعری ہے۔
بالکل اسی طرح معاملہ عمر خیام کے ساتھ بھی ہے۔۔۔۔۔
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ پر پھر کبھی بات کرینگے آج چلتے ہیں عمر خیام کے بیت النجوم میں اور عمر خیام کے بارے میں پڑھتے ہیں۔۔۔
جیساکہ اوپر زکر کیا ہے عمر خیام کے ساتھ بھی علامہ اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا معاملہ ہے⁦، عمر خیام ایک عظیم ماہر فلکیات، ماہر علم نجوم، عظیم ریاضی دان اور اعلیٰ پائے کا شاعر تھا۔۔۔
عمر خیام 1048ء میں نیشاپور کے ایک خیمہ ساز کے گھر میں آنکھ کھلی۔ ابتدائی تعلیم زمانے کے عرف کے مطابق حاصل کی۔ علمی و تحقیقی مضامین کی طرف ملن زیادہ تھا اس وجہ سے باپ کا پیشہ اختیار نہیں کیا بلکہ علمی دنیا میں سفر جاری رکھا۔۔۔۔
جوانی میں عمر خیام باپ کے سایے سے محروم ہوگیا اور کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن علم و تحقیق سے اپنا رشتہ نہیں توڑا ۔۔۔۔
سلطان الپ ارسلان کے روم کے خلاف ملاذگرد کی جنگ میں عمر خیام کی ملاقات سلطان الپ ارسلان کے بیٹے سلطان ملک شاہ سے ہوا اور اس کو تین پیشنگوئیاں کیں کہ جنگ میں فتح سلطان الپ ارسلان کی ہوگی لیکن بعد میں شہنشاہ روم اور سلطان الپ ارسلان فوت ہو جائینگے ۔۔۔۔
خدا کا کرنا بھی ایسا ہوا۔ اس وجہ سلطان ملک شاہ عمر خیام کے علم نجوم پر کافی یقین پیدا ہوا، سلطان ملک شاہ عمر خیام کے علم سے کافی متاثر تھے۔
اس جنگ کے بعد عمر خیام سلجوقی سلطنت کی سرپرستی میں ریاضی کے ایک ماہر استاد سے ریاضی پڑھنے لگا۔ اس کے استاد نے اس کے اندر چھپی صلاحیتیں دیکھیں اور اس نے نظام الملک طوسی کو ایک خط بیجھا کہ عمر خیام میں بہت صلاحیتیں ہیں اگر اس کو موقع دیا جائے یہ بہت کچھ کر پائے گا۔ نظام الملک طوسی سلطان ملک شاہ کا وزیراعظم تھا اس نے عمر خیام کے بارے میں سلطان ملک شاہ کو بتایا۔ ملک شاہ پہلے سے عمر خیام کے علم کا گرویدہ تھا اس لیے بنا وقت ضائع کیے عمر خیام کو ایک تجربہ گا تعمیر کروایا عمر خیام کی خواہش پر جو "بیت النجوم” کے نام سے مشہور ہوا۔ وہاں وہ مختلف تجربات و مشاہدات کرتا تھا۔ اور بعد میں سلطان ملک شاہ نے اس کو دربار میں منجم خاص کے عہدے سے نوازا۔۔۔۔۔
عمر خیام کے وہ کارنامے جس کی وجہ سے ان کو شہرت ملی تھی ہم میں سے اکثر کو معلوم نہیں وہ صرف شاعری نہیں تھی بلکہ اس کے یہ کارنامے علم فلکیات، فلسفہ اور ریاضی کے شعبوں میں ہیں۔۔۔ ہم سب کو یہ معلوم ہے کہ شمشی کیلنڈر میں ہر چار سال بعد فروری 29 دن کا ہوتا ہے اور اس طرح سال 366 دن کا۔ یہ عمر خیام کا کارنامہ ہے عمر خیام نے سلطان ملک شاہ کے دور میں بیت النجوم میں سات سال کی مشکل محنت کے بعد یہ اندازہ لگایا تھا کہ سال میں 365 دن نہیں بلکہ 365 دن اور 6 گھنٹے ہوتے ہیں جو کل ملا کر چار سال میں ایک دن بنتا ہے۔ اس لیے سلطان ملک شاہ کے لئے نئے کیلنڈر کو اس نے جو ترتیب دیا تھا اس میں عمر خیام نے یہ فرق مٹایا تھا۔ یہ وہ کارنامہ ہے کہ آج کے جدید دور کی سائنس بھی اس کو درست مانتی ہے حالانکہ اس زمانے میں یہ جدید آلات نہیں تھے۔۔۔۔
ریاضی کے شعبہ میں اس کے بھی بڑے بڑے کارنامے ہیں مثال کے طور پر الجبرا میں اس کی مشہور کتاب الجبرا و مقابلہ، جس سے آج کے دور میں بھی الجبرا پڑھنے والے مستفید ہوتے ہیں۔ اس طرح الجبرا میں اس نے چھ نئی کلیے دریافت کیے ہیں۔ مسلہ دو رقمی (بائنمیل تیورم) کا سہرا بھی اسی کے سر جاتا ہے ۔۔۔۔
عمر خیام 1131ء میں وفات پائی۔ وفات ہونے سے پہلے عمر خیام نے ایک دفعہ پھر بڑی مشکل زندگی گزاری تھی۔ ہوا یوں کہ عمر خیام نے ایک نظریہ دیا تھا جو آج کل سارے لوگ اس کو صحیح مانتے ہیں لیکن اس زمانے میں عمر خیام کو اس کی وجہ سے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہ نظریہ یہ تھا کہ سورج دنیا کے گرد نہیں گھومتا ہے بلکہ اس کے برعکس دنیا سورج کے گرد گھومتی ہے۔ اس زمانے میں یہ ایک کفریہ سوچ تصور کیا جاتا اور لہذا اس وجہ سے سلطان ملک شاہ کی وفات کے بعد عمر خیام پر مقدمہ چلایا گیا اس میں بڑے بڑے علماء جیسے کہ امام غزالی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اور بڑے بڑے قاضیوں نے شرکت کی تھی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ عمر خیام کو قتل نہیں کیا جائے گا لیکن اس کی تصانیف کو جلایا جائے، اس کی تصانیف کو مدراس میں نہیں پڑھایا جائے گا اور اس کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے کی تکمیل کیلئے اس کو نیشاپور سے نکال دیا گیا اس کی تصانیف اور ایجادات کو اگ لگائی گئی اور مدارس میں بھی اس پر پابندی لگ گئی۔ ۔۔
عمر خیام کی شاعری کا زیادہ حصہ اس نے اس کے بعد مرنے تک لکھا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔

Leave a reply