امر اللہ صالح کا پنجشیر کے قریب طالبان کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ

0
38

امر اللہ صالح نے پنجشیر کے قریب طالبان کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے-

باغی ٹی وی:بی بی سی کے مطابق ا فغان صوبے پنجشیر میں طالبان اور شمالی مزاہمتی فوج کے درمیان لڑائی کا آغاز ہوا ہے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کو بھاری نقصانات پہنچانے کے دعوے کئے گئے ہیں۔

افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے کہا ہے کہ طالبان نے پنجشیر وادی کے داخلی راستے کے قریب افواج اکٹھی کرنے کی کوشش کی ہے تاہم ان کے مطابق اس سے قبل اندراب وادی میں انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

طالبان ذرائع کے مطابق اُن کے ایک جنگجو کمانڈر قاری فصیح الدین لڑائی کی قیادت کر رہے ہیں۔

دوسری جانب شمالی مزاہمتی فوج نے دعویٰ کیا ہے انھوں نے لگ بھگ تین سو طالبان جنگجوؤں کو مار دیا ہے تاہم طالبان اس دعوے کی تردید کر رہے ہیں۔

اس سے قبل رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ہزاروں طالبان جنگجووں نے وادی پنجشیر کا محاصرہ کرلیا ہےافغانستان میں طالبان تقریباً کابل سمیت ملک کے تمام حصوں پر قبضہ کرچکے ہیں اور اس وقت ملا عبدالغنی برادر سمیت ان کی اعلیٰ قیادت افغان دارالحکومت میں موجود ہے اور ملک میں حکومت بنانے کے حوالے سے غور و فکر کررہی ہے۔

ایسے میں صرف پنج شیر ایک ایسا علاقہ ہے جو اب تک طالبان کے کنٹرول سے باہر ہے۔ پنج شیر افغانستان کے 34 صوبوں میں سے ایک ہے جو کابل سے تقریباً تین گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

امید ہے 31 اگست تک افغانستان سے انخلاء مکمل کریں گے امریکی صدر

یہ صوبہ طالبان کے پچھلے دور 1996 سے لے کر 2001 تک میں بھی طالبان کے کنٹرول میں نہیں تھا اور ’شیر پنج شیر‘ کے نام سے مشہور احمد شاہ مسعود کی قیادت میں شمالی اتحاد طالبان کے خلاف جنگ اسی علاقے سے لڑتا تھا۔

دوسری جانب احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے احمد مسعود نے کہا تھا کہ ان کے ساتھ صرف پنجشیر کے لوگ ہی نہیں کھڑے بلکہ دیگر صوبوں سے بھی لوگ ان کے ساتھ آ کر مل رہے ہیں۔

اتوار کو خبر رساں ادارے رائٹرز کو پنجشیر سے دیئے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ جنگ نہیں چاہتے تاہم وہ اور ان کے جنگجو لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

جبکہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کا کہنا تھا کہ دارالحکومت کابل کے شمال میں پنجشیر وادی طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری بڑا گڑھ ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر طالبان حملہ آور ہوئے تو وہاں جمع ہونے والے جنگجو مقابلہ کریں گے۔

تاہم احمد مسعود کا کہنا تھا کہ اگر طالبان نے ان کے علاقوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو ان کے حامی لڑنے کے لیے تیار ہیں’وہ دفاع کریں گے، وہ لڑیں گے۔ وہ کسی بھی ناجائز حکومت کی مخالفت کریں گے۔

احمد مسعود کے علاوہ نائب صدر امراللہ صالح نے بھی اس علاقے میں پناہ لی ہے اور طالبان کے خلاف بغاوت کی اپیل کی ہےانھوں نے امید ظاہر کی کہ طالبان کو اس بات کا حساس ہوگا کہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں-

Leave a reply