بھارت کو بتادیا ہے کہ پہلے کشمیر،باقی معاملات بعد میں ، شاہ محمود قریشی کا واشنگٹن میں پاکستانیوں سے خطاب

واشنگٹن:بھارت کو بتادیا ہے کہ پہلے کشمیر،باقی معاملات بعد میں ، شاہ محمود قریشی کا واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب ،اطلاعات کے مطابق پاکستان وزیر خارجہ نے کہا کہ بعض ممالک پاکستان اور بھارت کو دوطرفہ مذاکرات سے مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی بات کرتے ہیں، اس پر بھی ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے، پاکستان نے ہمیشہ امن اور مذاکرات کی بات کی ہے لیکن بھارت کا رویہ مخاصمانہ رہا، بھارت نے صورتحال میں مزید بگاڑ پیدا کیا اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت تبدیل کی گئی، مزید فوجوں کو مقبوضہ وادی بھجوایا گیا۔

امریکہ میں بہت بڑے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے اندر اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے امتیازی قوانین بنائے گئے جس کے خلاف مسلمانوں کے ساتھ ساتھ وہ بھارتی جو سیکولر ہندوستان کے حامی تھے ، سراپا احتجاج ہیں اور احتجاج کا دائرہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاک ہ ہم نے سیکورٹی کونسل کو اپنے ان خدشات کا اظہار کیا کہ بھارت اپنے داخلی بدامنی سے دنیا کی توجہ ہٹانے کےلئے پلوامہ کی طرح کا کوئی فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔ پلوامہ کو بنیاد بنا کر بھارت نے جارحیت کی جس کا ہم نے ردعمل میں جواب دیا۔

واشنگٹن میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ امریکا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی پاکستان کا مثبت تشخص ابھارنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، میں نے ڈیڑھ سال کے بعد کیپیٹل ہل کے رویہ میں بہت تبدیلی دیکھی۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ اگست 2017ء کو جنوبی ایشیائی پالیسی کا اعلان ہوتا ہے اور پاکستان کو منفی درجہ دیا جاتا ہے اور آج پاکستان کی ستائش کی جا رہی ہے، افغان عمل امن میں پاکستان کی مصالحانہ کاوشوں کو سراہا جا رہا ہے، ہم نے انہیں شرپسند عناصر سے بھی خبردار کر دیا ہے جو امن مخالف ہیں۔ پاکستان نے اپنا مصالحانہ کردار خلوصِ نیت سے ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کی طرف سے کل سامنے آنے والا بیان انتہائی حوصلہ افزاءہے، طالبان کو سازگار بنانے کےلئے آمادہ ہونے سے امن معاہدے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ امریکا اور طالبان کو معاہدہ طے پانے کے بعد ہمیں امید ہے کہ ”بین الاافغان“ مذاکرات کا آغاز ہو گا۔

کشمیر سے متعلق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کوشش ہو گی کہ سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو سے ہونے والی ملاقات میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کروں کیونکہ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو خطہ میں ایک اور انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، ہم خطہ میں امن کے متمنی ہیں تاکہ ہم پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز کی طرف توجہ مرکوز کر سکیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سمجھتا ہوں آزادانہ خارجہ پالیسی کیلئے معاشی استحکام کا ہونا بنیادی شرط ہے۔ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے کہتا ہوں کہ آپ امریکی کاروباری حضرات کو پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کےلئے آمادہ کریں تاکہ وہاں روزگار کے مواقع میسر آئیں اور معیشت کا پہیہ چلے، ہم نے کاروبار کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولت دینے کیلئے نئی اصلاحات متعارف کرائی ہیں تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کی طرف متوجہ ہوں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.