مزید دیکھیں

مقبول

فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی کی بیوی شوہر کیخلاف فیملی کورٹ پہنچ گئی

معروف فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی کے خلاف ان کی...

اقوام متحدہ کا غزہ میں بجلی کی فراہمی بحال کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ...

مصطفیٰ قتل کیس، دو ڈرگ ڈیلر گرفتار

کراچی: مصطفیٰ عامر قتل کیس میں منشیات سے جڑے...

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا محکمہ زکوٰۃ کو ختم کرنے کا اعلان

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں محکمہ...

داعش کا دہشت گرد شریف اللہ امریکی عدالت پیش

پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد سے گرفتار...

اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر240 روپے کا ہوگیا

اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت فروخت240 روپے ہوگئی ہے.

آج بروز منگل کو کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی پیش قدمی کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل کو مارکیٹ کے آغاز میں ہی انٹر بینک میں ڈالر 1 روپے 18 پیسے مہنگا ہوکر 231 روپے کا ہوگیا۔ دوپہر 12 بجے انٹربینک میں ڈالر2روپے18پیسےمہنگا ہوکر232روپے کا ہوگیا۔ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت فروخت 2 روپے بڑھ کر240 روپے ہوگئی۔

پیر کوانٹر بینک میں کاروبار کے اختتام پرڈالر 1 روپے 64 پیسے مہنگا ہوکر 229.82 روپے پر بند ہوا تھا۔ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت فروخت 238 روپے پربند ہوئی تھی۔ کرنسی ڈیلرز کا کہنا تھا کہ سیلاب کے بعد درآمدی ضروریات کیلٸے ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا ہے اور آئی ایم ایف کی ایکسچینج ریٹ کو فری فلوٹ رکھنے کی شرط نے بھی صورتحال دشوار کردی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف (IMF) کی جانب سے پاکستان کو1 ارب 16 کروڑ ڈالر قرض مل گیا، جس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ اس سے روپے کی گرتی قدر کو سہارا ملے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا اور ڈالر کو لگام نہ دی جاسکی۔ گذشتہ چند روز سے ملک کی کرنسی مارکیٹوں میں ڈالر سمیت دیگرغیرملکی کرنسیوں کے مقابلے میں روپیہ بے قدری کا شکار رہا۔
مزید یہ بھی پڑھیں: اداروں کیخلاف توہین آمیز بیانات رکوانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی
اوپن کرنسی مارکیٹ، ڈالرکی قیمت فروخت 238 روپے پربند
کرنسی ڈیلرز کا کہنا تھا کہ ڈالر کی طلب میں مسلسل اضافہ اس کی قدر میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ڈالر کی طلب کے مقابلے میں فراہمی آدھی بھی نہ ہونے کے باعث ڈالر مسلسل مہنگا ہورہا ہے۔ نجی ٹی وی سے بات کرتےہوئے امپورٹرعبدالرؤف کا کہنا تھا کہ بینکوں سے ڈالر دستیاب نہیں ہیں اوربلیک مارکیٹ کا حجم بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو کاروبارکا تیزی کےساتھ آغاز ہوا۔

ہفتے کے دوسرے روز 100 انڈیکس میں 150 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔اسٹاک مارکیٹ میں 42 ہزار پوائنٹس کی حد بحال ہوگئی۔ دوپہر 12 بجے 100 انڈیکس میں 200 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اورانڈیکس 42060 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ پیر کی صبح اسٹاک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 42 ہزار پوائنٹس کی حد بحال ہوگئی تھی اور 100 انڈیکس 199 پوائنٹس کے اضافے سے 42 ہزار 48 پوائنٹس پر پہنچ گیا تھا۔

تاہم پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں اختتام ہوا اور اسٹاک مارکیٹ اتار چڑھاؤ کے بعد مندی کا شکار ہوگئی تھی۔ پیر کو اسٹاک مارکیٹ کا 100 انڈیکس 86 پوائنٹس کی کمی سے 41862 پوائنٹس پر بند ہوا۔ واضح رہے کہ منگل 6 ستمبر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے اپنے پہلے بنیادی انڈیکس پی ایس ایکس ڈیویڈنڈ 20 انڈیکس کا اجرا کردیا تھا۔

پی ایس ایکس ڈیویڈنڈ 20 انڈیکس کو پی ایس ایکس میں ڈیویڈنڈ ادا کرنے والی سرفہرست 20 کمپنیوں کی کارکردگی کو ٹریک کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا جس کے تحت کمپنیوں کو ان کے گزشتہ 12 ماہ کے ڈیویڈنڈ دینے کی بنیاد پر درجہ بندی اور وزن دیا گیا ہے۔

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
آن لائن ایڈیٹر، اسلام آباد Follow @MalikRamzanIsra