حکومت مخالف تحریک، اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس آج ہو گی

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت حکومت مخالف تحریک کے سلسلہ میں آل پارٹیز کانفرنس آج اسلام آباد میں‌ ہو گی جس میں تمام اپوزیشن پارٹیوں کے سربراہان اور نمائندے شریک ہوں گے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اے پی سی میں شرکت کیلئے اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو دعوت دیدی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جے یو آئی (ف)، اے این پی، قومی وطن پارٹی، پخونخواہ ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی سمیت اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے رہنما شرکت کریں گے جبکہ جماعت اسلامی کی طرف سے اے پی سی میں‌ شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے.

اپوزیشن جماعتوں کے حکومت کے خلاف اے پی سی کو کامیاب بنانے کے لئے مولانا فضل الرحمان متحرک کردار ادا کر رہے ہیں. گزشتہ روز نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء میر حاصل خان بزنجو ، سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی اور نیشنل پارٹی پنجاب کے صدر ایوب ملک نے مولانا فضل الرحمٰن سے انکی رہائشگاہ پر ملاقات کی، جس میں آل پارٹیز کانفرنس کے‌ حوالہ سے مشاورت کی گئی. مولانا فضل الرحمان اے پی سی سے قبل اپوزیشن کو ایک ایجنڈے پر متفق کرنا چاہتے ہیں، جے یوآئی کے سربراہ کا اصل مقصد نااہل حکومت سے جان چھڑانا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں حکومت کے خاتمے پر متفق نہیں ہے، پیپلزپارٹی پارلیمان کے اندر تبدیلی لانا چاہتی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے حکومت اپنی نااہلی کی وجہ سے خود ہی ختم ہو جائے گی۔

اے پی سی کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ کہ اگر اپوزیشن ایک ایجنڈے پر متفق نہ ہوئی تو احتجاج اور ملین مارچ ہوں گے اور جے یوآئی اسلام آباد لاک ڈاؤن کرنے کی تجویز پر بھی غور کریگی۔ مولانا فضل الرحمان اے پی سی سے قبل اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ ہم اسلام آباد کا گھیراو کریں گے، جماعت اسلامی اپنی الگ تحریک چلا رہی ہے ، جماعت اسلامی نے اے پی سی میں شریک ہونے سے انکار کیا ہے.

واضح رہے کہ اسلام آباد میں بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو افطار پارٹی دی تھی جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں عید کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی مولانا کی زیر صدارت ہو گی. اس سے قبل مولانا فضل الرحمان ملک بھر میں ملین مارچ کر رہے ہیں، کراچی، سکھر لاہور سمیت مختلف شہروں میں ان کے پروگرام منعقد ہو چکے ہیں. واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان پندرہ برس بعد کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سے ہٹائے گئے کیونکہ وہ 2018 کا الیکشن ہار گئے تھے. الیکشن ہارنے کے بعد مولانا نے تحریک انصاف کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کی دھمکی دی تھی جو ابھی تک جاری ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.