fbpx

ہمارا تعليمی نظام تحریر : ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

ہمارا تعليمی نظام

تعلیم کی حیثیت کیسی بھی ملک و معاشرے کے لیے ایک مینارہ نور کی سی ہے جو قوم کی رہنمائی کرتی اور اسے اس کے نصب العین کے حصول کی جانب گامزن رکھتی ہے ۔ تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے

تعیلمی نظام کو کسی بھی ملک کی ترقیاتی ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ تعلیم حاصل کرنا ہر انسان کا حق ہے اور یہ حق  کوئی کیسی انسان سے چھین نہیں سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں

  تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے  اس بات میں کوٸی شک نہیں کہ جن قوموں نے تعیلم کی طرف توجہ دی انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کی معراج پالی امریکہ چین جاپان برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک نے اسی لاٸحہ عمل کو اپنا کر اپنے نصب العین کو پایا جو قومیں تعلیم کو ثانوی حیثیت دیتی ہیں وہ کبھی اپنے مقصد کو نہیں پاسکتیں کیونکہ جب پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی جاٸے تو دیوار ثریا آسمان تک پہنچ کر بھی ٹیڑھی ہی رہتے ہے

خشتِ اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج

آج تعلیم کی صورت ِحال یہ ہے کہ سب کو تعلیم دستیاب نہیں ہے۔اور پاکستان میں معیارِتعلیم بھی بہت کم ہے۔تعلیم ایسی ہونی چاہیے جو معاشرے کے سبھی طبقات  چاہے وہ امیر ہو یا غریب کے لئے یکساں دستیاب ہو۔ قیام پاکستان کے ابتدائی چند سالوں سے لے کرآج تک کی حالت کا موازنہ کیا جاٸے تو فرق صاف ظاہر ہے ۔ہمارے ملک میں تعلیم کی کشتی گزشتہ پانچ دہاٸیوں سے اب تک منزل سے بےگانہ تلاطم خیز موجوں کے ستم سہہ رہی ہے

افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ملک نظام تعلیم کا رخ پھیلاٶ کی طرف زیادہ ہے لیکن معیار پر توجہ نہ  ہونے کے باعث یہ پستی کی جانب گامزن ہے نتيجاً آج ہمارا نظام تعلیم نہ صرف ہمارے مقاصد کا درست طور پر ترجمان نہیں رہا بلکہ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ ملکی ترقی کی ضمانت دینے سے بھی قاصر دکھاٸی دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے فروغ کے باوجود آج بھی ہم اپنی حالت میں کوٸی  خاطر خواہ تبدیلی نہیں لاسکے

اگرچہ تحریک انصاف حکومت نے اپنے طور سے تعليم کو اولی ترجيحات میں قرار دیا اور اصلاح تعیلم کے لیے مفید پالیسیاں مرتب کیں جس کے نتيجہ میں تمام تعیلمی ادارے کے نصاب کو یکساں کردیا گیا اور امید ہے کہ تعلیمی نظام میں بہتری آٸے گی اور تعلیم کے فروغ کے حوالے سے البتہ یہ کوشش کامیاب رہی گی  اور اگر ۔ نظامِ تعلیم پر مزید توجہ دی جاٸیں تو اس مسلہ کا حل نکل سکتا ہے کیونکہ جس ملک میں تعلیم نہ ہو وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا ۔

اگر ہمارا نظام تعلیم  بھی دنیا کے ترقی یافتہ اور جدید ترین نظام کے متوازی کھڑا ہوجاتا ہے تو ملک پاکستان تعلیمی میدان میں کامیابی کا معرکہ سر کر لیا گا۔

آخر اتنا کہنا چاہوں گا کہ

تجھے کتابوں نے کیا کور ذوق اتنا
صبا سے بھی نہ ملا تجھے بوٸے  گل کا سراغ

تحریر : ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی
@HamxaSiddiqi

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!