پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ڈیم فنڈ معاملے پر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو طلب کرلیا

0
32

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ڈیم فنڈ معاملے پر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو طلب کرلیا ہے.

پیبلک اکؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت میں ہوا، جس میں کمیٹی رکن برجیس طاہر نے کہا کہ ڈیم فنڈ سے متعلق اشتہارات پر 14 ارب خرچ ہوئے جب کہ 9 ارب اکٹھے ہوئے۔ لہذا بتایا جائے کہ ڈیم فنڈ ڈیمز پر استعمال کیوں نہیں ہو رہا؟۔ انہوں نے کہا کہ ہم ججز کو دھمکیاں تو نہیں دے رہے۔ رکن کمیٹی مشاہد حسین سید نے کہا کہ ڈیم فنڈ سے متعلق انکوائری ہونی چاہیے۔

چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار متنازع ہیں۔ وہ بھی ڈیم فنڈ پر جوابدہ ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان ڈیم فنڈ کے معاملے پر غیر آئینی اسٹے آرڈرز کو دیکھ لیں۔ پی اے سی نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو ڈیم فنڈ پر بریفنگ کے لیے طلب کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی بلا لیا۔

علاوہ ازیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین نیب آفاق سلطان نے شرکت کی۔ چیئرمین پی اے سی کا کہنا تھا کہ نیب آئینی خلاف ورزیاں کررہا ہے۔ افسران سے اثاثوں اور بھرتیوں کا ریکارڈ مانگتے ہیں تو نیب عدالت چلا جاتا ہے۔جو تفصیلات طلب کی گئی ہیں وہ تفصیلات کیوں نہیں دی گئیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری، کابینہ سیکرٹری، سیکرٹری قانون اور آئی جی اسلام آباد کو فوری طلب کرلیا۔ چیئرمین نور عالم خان نے کہا کہ میں ان کو بتاتا ہوں کہ پی اے سی کی کیا طاقت ہے۔ چئیرمین پی اے سی نے آڈیٹر جنرل سے نیب کے اکاؤنٹس کی تفصیلات مانگ لیں

اجلاس میں چیئرمین نیب سے سوال کیا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے بی آر ٹی منصوبے میں بے ضابطگیوں سے متعلق انکوائری کے حکم پر نیب نے کیا کیا؟، جس پر چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے کہا کہ بی آر ٹی سے متعلق انکوائری کا آغاز 2018ء میں کیا۔ بی آر ٹی انکوائری کنٹریکٹ میں بے ضابطگی، ڈیزائن میں خرابیوں اور کئی گنا زیادہ لاگت سے متعلق تھی۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے بی آر ٹی انکوائری پر اسٹے دیدیا تھا۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ آج پشاور سے ڈی جی آئے ہوتے تو بی آر ٹی پر جواب بہتر انداز میں دیتے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نیب سے بی آر ٹی انکوائری کی ٹائم لائن بھی طلب کرلی۔

علاوہ ازیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے دوران چیئرمین نیب نے بتایا ہے کہ بی آر ٹی پشاور میں 32 ارب 86 کروڑ کے نقصان کو 26 ارب کا منافع ظاہر کیا گیا۔ اجلاس کے دوران نیب افسران کے اثاثوں کے معاملے پر پھر گرما گرمی ہوئی، اس موقع پر نور عالم خان اور آفتاب سلطان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

نور عالم خان نے کہا کہ پی اے سی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے، آفتاب سلطان نے سابق چیئرمین،ڈی جیز نیب کے اثاثے جمع کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ چیئرمین کمیٹی نے اجلاس میں ڈی جی نیب پختونخوا کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیب اکاؤنٹس کے آڈٹ کا حکم دے دیا، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے آڈیٹر جنرل کو نیب افسران کے سفری الاؤنس کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

جبکہ بی آر ٹی منصوبے میں کرپشن کے حوالے سے چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے اس کرپشن کے کیس پر بریفنگ دی۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ بی آر ٹی پشاور میں 32 ارب 86 کروڑ کے نقصان کو 26 ارب کا منافع ظاہر کیا گیا، منصوبے کی لاگت 49 ارب روپے سے بڑھ کر 69 ارب ہوگئی۔
بی آر ٹی پشاور کی تعمیر کے ٹھیکے دینے کے دوران بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں، پشاور ہائی کورٹ نے بھی کیس کی تحقیقات کا حکم دیا تھا، نیب تحقیقات چل رہی تھیں کہ سپریم کورٹ نے حکم امتناع جاری کردیا۔

Leave a reply