بحرِ الکاہل میں مشن کے دوران عجیب و غریب متعدد انواع کی مخلوقات دریافت

دریافت ہونے والی یہ مخلوقات اس خطے کے ایسے علاقے میں رہتی ہے جہاں سورج کی روشنی کا گزر نہیں ہوتا،
0
57
science

اسٹاک ہوم: بحرِ الکاہل (Pacific ocean) میں ایک مشن کے دوران محققین نے سمندر کے گہرے ترین خطے میں متعدد انواع کی مخلوقات دریافت کی ہیں جن کا پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کیا گیا تھا۔

باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق سویڈن کے محققین بحر الکاہل کے گہرے ترین خطے Clarion-Clipperton Zone کا دورہ کر رہے تھے جہاں انہوں نے کچھ ایسی انواع دریافت کیں جن کا پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کیا گیابحر الکاہل کے اندر موجود یہ گہرا ترین خطہ میکسیکو اور ہوائی کے درمیان واقع ہے، دریافت ہونے والی یہ مخلوقات اس خطے کے ایسے علاقے میں رہتی ہے جہاں سورج کی روشنی کا گزر نہیں ہوتا، ہمیشہ تاریکی کا راج رہتا ہے۔

سویڈن کی یونیورسٹی آف گوتھنبرگ نے اپنے جاری کردہ بیان میں بتایا کہ مشرقی بحر الکاہل میں کلیریون کلپرٹن زون میں تحقیقی مہم اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے یہ زیرسمندر خطے زمین کے سب سے کم دریافت کیے جانے والے حصے ہیں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہاں رہنے والی دس انواع میں سے سائنس اب تک صرف ایک کے بارے میں بیان کرپائی ہے۔

غزہ جنگ : اختلافات پر نیتن یاہو کی جنگی کابینہ کےاہم رکن اپنے عہدے …

Clarion-Clipperton Zone سمندر کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے جس کی گہرائی 3500 سے 5500 میٹر تک ہے اگرچہ تمام سمندری خطے زمین کی کُل سطح کا نصف سے زائد ہیں لیکن ان میں بسنے والی دلچسپ مخلوقات کے بارے بہت ہی کم معلومات ہیں۔

غیرملکی ائیرلائن کی پرواز منسوخ ہونے سے 136 عازمین حج شدید پریشانی کا شکار

Leave a reply