قرضوں کی وجہ سے پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا. شبر زیدی

0
36
Shabbar Zaidi

نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے پاس صرف 38 دن رہ گئے ہیں، اور حکومت کے اقدامات معیشت کے حوالے سے نہیں ہیں، بجٹ میں جو تبدیلی کی گئی ہے اس میں آئی ایم ایف نے سب سے بڑا اعتراض ایمنسٹی اسکیم پر کیا تھا۔ شبر زیدی نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں آئی ایم ایم کے پروگرام کےبعد پاکستان مشکلات سے نکل جائے گا، لیکن اس کے برعکس آئی ایم ایف کے پروگرام کے باجود پاکستان بیورونی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت نہیں رکھتا، چاہے اس کے بعد بھی پروگرام آجائے۔

سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام نہ ملنے سے پاکستان ڈیفالٹ کرجائے گا، بلکہ ملکی قرضے اتارنے کے لئے ہمیں ان قرضوں کو ری پروفائل کرانا پڑے گا، یہ ایسی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا، وزیرخزانہ بھی اس حقیقت سے آشنا تھے۔ شبر زیدی نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ آنے والی کوئی بھی حکومت معاشی حالات میں عام آدمی کےلئے بہتری لائے گی تو ہم لوگوں کو بے وقوف بنارہے ہیں، موجودہ شکل میں ملک معاشی طور پر نہیں چل سکتا، یہ ناامیدی نہیں لیکن حقیقت یہی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
ڈاؤیونیورسٹی ایشیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں شامل
تعلیمی میدان میں گلگت بلتستان کے نوجوان آزاد کشمیر اور اسلام آباد کے نوجوانوں سے آگے
سلمان خان نے نوازالدین صدیقی کی اہلیہ کو ذاتی زندگی کے بارے میں بات کرنے سے منع کر دیا
قومی اسمبلی: نااہلی کی سزا 5 سال کرنے کا بل اتفاق رائے سے منظور
مئیر کراچی انتخابات: پی ٹی آئی کےمزید 6 اراکین پی ٹی آئی سے فارغ
سابق چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ کچھ چیزیں کتابوں میں لکھی ہوتی ہیں، اور آئی ایم ایف جب بھی پاکستان آیا اس نے یہی کہا کہ پالیسی ریٹ اور ایکسیچینج ریٹ کو اسی طریقہ کار سے چلائیں جس طرح کتابوں میں لکھا ہے، ہم نے وہی کیا اور پالیسی ریٹ کو 21 فیصد پر لئے گئے، اور ایکسیچینج کو فری کیا، جو کرنا بھی چاہئے۔ شبر زیدی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے تمام بیرونی سرمایہ کار افراد میرے کلائنٹ ہیں، اور یہ جب بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے آتے ہیں تو مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کب آنا ہے اور کب واپس جانا ہے، اس وقت پاکستان کسی بیرونی سرماریہ کار کے لئے سازگار نہیں ہے، 300 روپے کے ڈالر پر بیرونی سرمایہ کاری کی بات کرنا بے وقوفی والی بات ہے۔

Leave a reply