پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر

0
92

لاہور:پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخرہے،ویسے تو ملک کی جغرافیائی سرحدوں کےساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ دار ہے ، لیکن پچھلے چارپانچ سال سے جس طرح پاک فوج نے ملک کی بیرونی اوراندورنی سلامتی کےلیے بڑی محنت سے کام کیا، ایسے ہی پاک فوج نے ملکی معیشت اور اس کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا بھی مقابلہ کیا ہے

اس سلسلے میں پاک فوج نے ماضی قریب میں ایک ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہےکہ جس کی مثال اس سےقبل نہیں ملتی،منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے عالمی تنظیم ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان پر جس قدر دباوتھا اور پاکستان کوگرے لسٹ میں ڈال رکھا تھا اس سے نہ صرف ملکی معیشت کو بہت بڑا نقصان ہورہا تھا بلکہ پاکستان کے اندرونی نقصانات کےساتھ ساتھ بیرونی دنیا سے بھی معاملات بہت خراب ہورہے تھے ،

 

ایف اے ٹی ایف جیسے ادارے کی سخت ترین پابندیوں اور شرائط کو پورا کرنا حکومت کے بس کی بات نہیں تھی ، یہی وجہ ہے کہ حکومت نے آرمی چیف سے درخواست کی کہ پاک فوج اس معاملے پر حکومت کی مدد کرے،اس درخواست کےبعد پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایف اے ٹی ایف سے معاملات بہتر کرنے اورپاکستان کوگرے لسٹ سے باہرنکالنے کےلیے ایک میکنزم تشکیل دیا اوراپنی نگرانی میں ایک خصوصی مانیٹرنگ اورمعاون سیل تیشکیل دیا تاکہ سارے معاملات کی خود نگرانی کرکے پاکستان کواس مشکل سےنکالا جائے

 

قوم یہ بھی جانتی ہے کہ چند ماہ قبل جب وطن عزیز پاکستان میں سیلاب آیا ہوا تھا ، ہر طرف تباہی مچی ہوئی تھی ، سیاسی جلسے کر رہے تھےتو پاک فوج کے جوان ہمیشہ کی طرف عوام کی مدد کر رہے تھے ، پاکستان کا کوئی شہر ایسا نہیں جہاں سیلاب سے لوگ مشکل میں ہوں اور پاک فوج کے جوان انکی مدد کو نہ پہنچے ہوں، سوشل میڈیا کارکنان نے افواج پاکستان کی امدادی سرگرمیوں کی بھرپور تعریف کی اور افواج پاکستان سے محبت کا والہانہ اظہار کیا۔

 

یہ بھی یاد رہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں افواج پاکستان کی امدادی سرگرمیاں جاری اس دن سے لیکر اب تک جاری ہیں اور پاک فوج سول انتظامیہ کے شانہ بشانہ خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ افواج پاکستان کے 6500 افسران و جوان، سینکڑوں گاڑیاں، کئی ہیلی کاپٹرز، بیسیوں کشتیاں اور کئی نکاسئ آب کی ٹیمیں ملک بھر میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

 

چند دن قبل بلوچستان میں بارشوں سے سیلابی صورت حال میں بھی پاک فون کے جوانوں نے مقامی افراد کی مدد کی

 

اس کے علاوہ پاک فوج کی میڈیکل کور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عوام کو طبی سہولیات بھی فراہم کی گئیں ۔ افواج پاکستان کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں تین دن کا خشک راشن، پکا ہوا کھانا اور خیمے بھی تقسیم کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افواج پاکستان نے کسی بھی مشکل وقت میں اپنی قوم کو تنہا نہیں چھوڑا۔

 

 

پاک فوج کے جوانوں کی قربانیوں کی ایک طویل داستان ہے، پاکستان جو کہ دنیا کفر کو ایک آنکھ نہیں بھاتا اور اس کے سرپرایک ازلی دشمن بیٹھا ہےجو کسی بھی تاک میں پاکستان کو تہس نہس کردینا چاہتا ہے ، ان حالات میں جب قوم کو جاگنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ پاک فوج کےجوان خود جاگتے ہیں اور قوم کوسکون کی نیند سلانے کے لیے خود ایک آنکھ بھی نہیں جھکپتے ،ان جوانوں کی ایک عظیم داستان ہے

 

 

اس حوالے سے پاک فوج کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ!

جوان یہ کون ھیں__آو تمہیں میں یہ بھی بتلا دوں
ہیں وہ بھی بیٹے ماوں کے ھیں بھائی وہ بھی بہنوں کے

 


پاک فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتےہوئے کہا گیا ہے کہ "انہیں بھی نیند پیاری ہے تھکن انہیں بھی ہوتی ہے مگر سوچو تمہاری گالیاں سن کر وہ سونے کو چلے جائیں۔۔۔!!

 

 

خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہےکہ مگر سوچو ایک دن سخت چچکتی سردی میں برستے باد بہاراں میں قیامت خیز گرمی میں وہ سونے کو چلے جائیں۔۔۔!!

 

 

گھروں کواپنے لوٹ آئیں تمہاری نیند کیا ہو گی تمھارا چین کیا ہو گا وطن کی ہر گلی ہر کوچے میں لٹ جائے گی بہار۔۔۔!!
اے دشمنان گردو پھر تمہارا حال کیا ہو گا تو اب اس فوج کو دینے سے پہلے کوئی بھی گالی زبانوں کو لگاموں سے ذرہ روکے ہی رکھنا۔۔۔!!

 

تم __ ہی بتاو وہ ھیں مستحق گالی کہ یا پھر دعاؤں کہ۔ گھروں میں تو سکون سے ھو وہ کھائے سینوں__پہ گولی ہر ایک تہوار تم گھر پہ کرو وہ کھیلے خون کی ہولی __!!

ان حالات میں جب پاک فوج کے خلاف ایک منظم پراپیگنڈہ مہم جاری ہے کہنے والے نے پیغام دیا ہے کہ ذرا ان کی قربانیوں پر بھی ایک نظردوڑا دیں کہ یہ ہیرے جوہماری خاطراپنی جانیں نچھاور کرتے ہیں کیا اس لائق ہیں کہ انکی کردار کشی کی جائے ، ہرگز نہیں ، ہرکز نہیں ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے

 

Leave a reply