ماضی نہیں، پاکستان کے بہتر مستقبل پر توجہ کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

سیاسی جماعتیں ماضی کو یاد کرکے وقت ضائع نہ کریں
0
136
shehad qureshi

(تجزیہ شہزاد قریشی)
2024 انتخابات کا سال ہے۔ انتخابات کی تاریخ نزدیک آرہی ہے سیاسی جماعتیں اور سیاسی قائدین کی شدید دھند اور شدیدسردی میں گرجدار آوازیں سنائی دیر ہی ہیں۔ ا پنے ووٹروں کو شدید سردی کے موسم میں گرمارہی ہیں۔ عوام کے مقدرمیں سردیوں میں گیس نایاب ہے ۔ اس لئے اپنی آوازوں سے ان کو گرما رہے ہیں۔ گونگی اور بہری عوام ان سے سوال کرنے سے قاصر ہے کہ سردی میں گیس اور گرمی میں لوڈ شیڈنگ کیوں ہوتی ہے اور اس کا ذمہ دارن کون ہے ؟ملکی سیاسی جماعتوں میں اضافہ بھی ہوا ہے ۔ نئی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور ہمنوا اقتدار ، اختیارات کے مزے لوٹ چکے ہیں۔ ملک کے طول وعرض میں پھیلے گدی نشین اپنی اپنی پسندیدہ جماعت کے لئے اپنے مریدوں کو ووٹ دینے کی تاکید رہے ہیں۔ ان گدی نشین افراد کو کون سمجھائے کے ان کے آباو اجداد نے خدا اور رسول کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کی تبلیغ کی تھی نہ کے سیاسی پنڈتوں کے ساتھ چل کر سیاسی تبلیغ ،

آج ان گدی نشینوں کے سامنے ملاوٹ شدہ خوراک ۔ ملاوٹ شدہ ادویات جس کے بارے میں آپﷺ کا فرمان ہے جوملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں کاش یہ موجودہ گدی نشین اس ایک حدیث مبارکہ پر عمل کرواتے ۔

بلاول بھٹو پیپلزپارٹی میں نئی رو ح پھونکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں جبکہ میاں محمد نواز شریف زیرک مدبر اور سیاسی دائو پیچ کے ماہرسیاستدان ہیں۔پی ٹی آئی کے قائد اس وقت جیل میں ہیں وہ کب تک جیل میں رہیں گے یہ قانونی ماہرین ہی بتا سکتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں ماضی کو یاد کرکے وقت ضائع نہ کریں ۔ پاکستان کے بہتر مستقبل پر توجہ دیں ۔ عوام کو محض الزام تراشیوں کی سیاست اور نرگسی جھانسوں سے تسلی دینے کی بجائے حقیقی تعمیراتی سیاست کریں ۔ ملک بنیادی طورپر ایک مقروض ملک ہے اور معاشی طور پر خود مختار نہیں ہے ایسی پالیسیاں بنائیں ملک معاشی مستحکم ہو۔ بلوچستان کی محرومی کا رونا ہر دور میں رویا گیا ۔ اب ترقی کی جانب بلوچستان گامزن ہے غور طلب بات ہے کہ اس ترقی کو روکنے والے کونسے عناصر ہیں؟ چین اکنامک کو ریڈور کے راستے میں کون رکاوٹ بن رہا ہے یہ بلوچی بھائیوں کے لئے خوشحالی کے دروازے کھولے گا۔ شرپسند عناصر سے ڈرانے کی فرصت نہیں کچھ شرپسند بلوچستان کے سادہ لوح عوام کو گمراہ کررہے ہیں ۔ ہوس زر اور ہو س اقتدار کے سرکش گھوڑے پر سواروں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

Leave a reply