fbpx

پاکستان کی شرح نمو 3.5 فیصد رہے گی. آئی ایم ایف

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت سست روی کا شکار ہے لہٰذا عالمی ادارے کا اندازہ ہے کہ شرح نمو 3.5 فیصد رہے گی۔

روپے کی قدر میں کمی اور اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتوں سے کمزور معاشی حالات اور رواں مالی سال کے آخر تک مہنگائی کی 20 فیصدشرح اس سست روی کی وجہ ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج کے ساتویں جائزے کی تکمیل کے لیے بات چیت کے دوران عالمی ادارے نے رواں مالی سال کے لیے اپنے تخمینوں پر نظرثانی کی ہے جو اس نے گزشتہ جائزوں کے وقت کی تھی۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کے معاشی ترقی کے گزشتہ سال کے طے شدہ ہدف کو 3.5 فیصد کر دیا ہے،آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر کے ہدف کو بھی 4.5 ارب ڈالر تک کم کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاق غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مصروف رہے گی تاہم مہنگائی کی شرح میں ایڈجسٹمنٹ کی جا رہی ہے۔

نظرثانی شدہ تخمینوں کو 29 اگست کو ہونے والے آئی ایم ایف بورڈ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا،اس اجلاس میں پاکستان کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر قرض کی قسط کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔

رواں ہفتے کی مانیٹری پالیسی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا تھا کہ غیر معمولی طور پر شدید اور طویل مون سون بارشوں کے باعث سیلاب نے کپاس اور موسمی فصلوں کے لیے خطرات پیدا کر دیئے ہیں،جس سے رواں سال معاشی ترقی کے اہداف متاثر ہو سکتے ہیں،تاہم مانیٹری پالسی میں پہلے سے طے شدہ 3 سے 4 فیصد کا تخمینہ برقرار رکھا گیا۔

حکومت نے جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 5 فیصد مقرر کیا ہے۔

دوسری جانب حکومت پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کو بھجوائے گئے لیٹرآف انٹینٹ کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس عائد اور زرعی شعبے کی ٹیکس چھوٹ ختم ہونے کا امکان ہے۔

لیٹرآف انٹینٹ کے مطابق اکتوبر سے پٹرولیم مصنوعات پر 10.5 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا جس کے بعد پٹرولیم قیمت میں 20 روپے تک اضافے کا امکان ہے۔ ٹیکس اہداف میں کمی ہوئی تو زرعی شعبے کی سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کر دی جائیں گی جبکہ آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ زرعی ادویات، کھاد اور ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کر دی جائے گی۔

زرعی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے سے 150 ارب روپے کا ریونیو مل سکے گا۔ٹیئر1 اور ٹیئر 2 کے سگریٹس پر بھی مزید اضافی ٹیکسز لگا دیے جائیں گے، شوگر ڈرنکس پر ٹیکسز عائد کر کے 60 ارب روپے تک کا ریونیو لیے جانے کا امکان ہے۔ رواں مالی سال پہلی سہ ماہی میں اہداف حاصل نہ ہوئے تو اکتوبر سے اقدامات ہوں گے۔