پاکستانی سیاست، سیاست دانوں‌ کا رویہ . تحریر: حیدر زیدی

0
31

آزادی پاکستان کے بعد سے اب تک پاکستان میں کئی دور ایسے گزرے جس میں عوامی حکومت رہی تو کبھی مارشل لاء ملک میں رائج رہا- لیکن ان چیزوں سے پاکستانی عوام کو کبھی کوئی فرق نہیں پڑا کہ ملک میں کون حکمران جماعت ہے کیوں کہ ان بے حس حکمرانوں نے عوام کو اتنا سوچنے کے لیے وقت ہی نہیں دیا وہ ہمیشہ اپنی روز مرہ ضروریات زندگی اور بنیادی سہولیات جیسا کہ صحت روزگار تعلیم اور بچوں کی پرورش میں ہی الجھا رہے- اسے آپ سابقہ حکمرانوں کی سازش کا حصہ بھی سمجھ سکتے ہیں حالانکہ کہ یہ سب سہولیات کسی بھی جمہوری حکومت کی ذمہداری ہوتی ہے کہ وہ صحت تعلیم روزگار جیسی بنیادی چیزیں عوام کی چوکھٹ تک پہنچائے پاکستان میں بہت سی ایسی سیاسی تنظیمیں ہیں جنہوں نے روٹی کپڑا اور مکان موٹر وے ڈیم ایٹم بم جیسی ریاستیں پراپرٹی کو بنانے کا سہرا اپنے سر پر چڑھنے کی کوشش کی ہر تقریب میں یہ سیاستدان بھیڑ بکریوں کی طرح ایک دوسرے پر سیاسی حملے کرتے ہے اور پس پردہ یہ آپس میں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں- ایسے نام نہاد سیاستدان جلسوں میں تقریری کرکے پاکستانی قوم کا خون گرما کر ان سے ووٹ بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب قوم ان سے ان کی چوری کا حساب مانگے تو یہ لوگ پاکستان سے باہر بھاگ جاتے ہیں اور اگر وہاں بھی پکڑے جائیں تو یہ یہ چور اور ملک سے بھاگے ہوئے نااہل اور خود ساختہ سیاستدان گالم گلوچ پر اتر آتے ہیں گذشتہ دن عابد شیر علی کا ایک پاکستانی شہری سے انگلینڈ میں سامنا ہوا پاکستانی شہری نے عابد شیر علی اور ان کے لیڈر کی چوری کے بارے میں ان سے جواب لینا چاہا لیکن عابد شیر علی گالیوں اور غلاظت بھرے الفاظ کا ذخیرہ جو انھیں ان کی لیڈرشپ کی طرف سے دیا گیا ہے سب کے سامنے اس شہری پر برساتے رہے بات یہ نہیں کہ ان دونوں کے بیچ کیا معاملہ تھا فکر کی بات یہ ہے کہ ان بے حس لوگوں نے سیاست کو اتنا گندا کر دیا ہے کہ ایک صاف ستھرا آدمی سیاست میں آنے سے پہلے سو بار سوچتا ہے عابد شیر علی کو پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ جمہوریت کا چیمپیئن اور نواز شریف کا ہیرو بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے یہ پاکستانی قوم کا حق ہے کہ وہ سابقہ حکمرانوں کی چوری اور مکاری کا سوال ان کے منہ پر ہی کر سکے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے اگر یہ سب سوالات عابد شیر علی سے پاکستان میں کیے جاتے تو عزیز دوستو آپ بہتر سمجھتے ہیں کہ یہ جاگیر دار وڈیرے اور چور حکمران اس کا اور اس کے خاندان کا کیا حشر کرتے- ایک قوم کے لئے یہ ایک باعث شرم بات ہے کہ ہمارے نوجوان عابد شیر علی کو اس کی بے ہودہ زبان استعمال کرنے پر اس کی داد رسی کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کی سپورٹ میں ایک سیاسی جماعت کی طرف سے ٹرینڈز چلائے جارہے ہیں جب سے پاکستان میں عمران خان نے احتساب کا عمل شروع کیا ہے یہ چور حکمران عمران خان کی نفرت میں اتنا گر چکے ہیں کہ یہ کوئی بھی بات کرنے سے پہلے مجھے اپنا اسٹیٹس بھی نہیں دیکھتے اور میرے خیال سے ان کا کوئی اسٹیٹس بھی نہیں ہے عمران خان پر پرسنل اٹیک کرنا موجودہ سیاست اور جمہوریت پر بدنما داغ ہے ہم سب کو سیاست سے بالاتر ہوکر پاکستان پاکستان کی ترقی اور سابقہ حکمرانوں سے وہ لوٹا ہوا پیسہ نکلوانا چاہیے جو انہوں نے پاکستان کی غریب عوام کو دھوکا دے کر اپنے محلات اور فیکٹریوں میں تبدیل کیا ہے اور جب ان سے اس چیز کا حساب مانگا جائے تو یہ لوگ بیماری کے بہانے بنا کر پاکستان ملک سے بھاگ جاتے ہیں- انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں ہیں جب عابد شیر علی جیسے لوگوں کو ان ہی کے سپوٹر اور پاکستان کی غریب عوام گریبانوں سے پکڑ کر رڈو پر گھسیٹیں گے اور اپنا حق مانگیں گی.

@iamhaiderzaidi

Leave a reply