fbpx

پیرس اور بحریہ کا ایفل ٹاور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

ایفل ٹاور کا نام لیں تو ذہن میں پیرس آتا ہے۔ جسکے ویسے تو کئی ریپلیکا دنیا بھر میں موجود ہیں مگر مجھے اصلی ٹاور کے علاوہ بحریہ ٹاؤن لاہور کا "ایفل ٹاور” دیکھنے کا شرف بھی حاصل ہے۔

اصلی ایفل ٹاور جو پیرس میں واقع ہے، انسانی آرٹ سے زیادہ انجنئیرنگ کا خوبصورت نمونہ ہے۔ اتنا کہ لوگ اسے دیکھنے دنیا بھر سے آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر سے سالانہ 60 لاکھ سے زائد افراد اس ٹاور کی "زیارت” کو آتے ہیں۔

ایفل ٹاور کی تاریخ دلچسپ ہے۔ خوبصورت انجنیرنگ کے اس شاہکار کی اونچائی تقریبا 330 میٹر ہے۔ تقابل میں لاہور کا مینارِ پاکستان تقریباً 70 میٹر ہے۔ مگر ایفل ٹاور کو بنایا کیوں گیا؟

دراصل اسے 1889 میں پیرس میں ہونے والے ورلڈ فیئر کے لیے تعمیر کیا گیا۔ یہ ورلڈ فئیر 1789 میں آیے انقلاب ِفرانس کےصد سالہ جشن کی خوشی میں تھا۔ ایفل ٹاور جو پیرس کے دل میں دریائے سین کے کنارے ایستادہ ہے، اسے 2 سال کی قلیل مدت میں 1887 سے 1889 میں تعمیر کیا گیا۔ اسکا نام ایفل ٹاور اس لیے ہے کہ اسے فرانس کے ایک سویل انجنئیر الیکسینڈر گستاو ایفل کی کمپنی کے انجینئرز اور آرکیٹکٹس نے بنایا۔ شروع شروع میں جب یہ بنایا گیا تو اسکی فرانس کے کئی مشہور آرٹس اور دانشوروں نے مخالفت کی مگر آج یہ فرانس کی پہچان ہے۔

اس ٹاور کے تین فلورز ہیں جو سیاحوں کے لئے کھلے ہیں۔ ان پر سیاحوں کے لیے ریستوران بھی موجود ہیں جہاں وہ لذیذ کھانے کھا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ پیرس کا نظارہ بھی۔ان فلورز پر جانے کے لئے سیڑھیاں بھی ہیں اور ایک لفٹ بھی، جنکا ٹکٹ ہوتا ہے۔ 600 قدم کی سیڑھیاں دوسرے فلور تک جاتی ہیں جبکہ لفٹ تیسرے فلور پر۔ سب سے اوپر کی فلور پر آپکو ٹاور سے مختلف ملکوں کے دارلحکومت کی سمت اور فاصلہ تحریر کی صورت لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ٹاور کی تیسرے فلور تک جانے کا لفٹ کا ٹکٹ تقریباً 25 یورو یعنی تقریباً ساڑھے پانچ ہزار پاکستانی روپے ہے۔ جبکہ سیڑھیوں کے ذریعے دوسرے فلور تک جانے کا ٹکٹ تقریباً سوا چار ہزار روپے ہے۔

ٹاور سے متصل ایک بہت بڑا پارک ہے جہاں مقامی لوگ اور سیاح اکثر شام کو وقت بتانے آتے ہیں۔ ٹاور پر باقاعدہ لائیٹنگ کا انتظام ہے جس میں کل ملا کر 20 ہزار کے قریب برقی قمقمے اور بلب نصب ہیں۔ جو شام ہوتے ہی اس ٹاور کو روشنی سے سجا دیتا ہے اور دیکھنے والے اسکے حسن سے کھو سے جاتے ہیں۔

اس ٹاور کو بنانے میں اُس دور میں تقریباً ڈیڑھ ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ یہ مکمل طور پر لوہے کا بنا ہوا ہے۔ اسے زنگ سے بچانے کے لیے اس پر تقریباً ہر سات سال بعد رنگ کیا جاتا ہے۔ مختلف ادوار میں اسکا رنگ تبدیل کیا گیا۔ شروع شروع میں جب یہ بنا تو اسکا رنگ سرخی مائل بادامی تھا جبکہ آج اسکا رنگ بادامی سا ہے۔ اسے رنگنے کے لئے 3 ٹن پینٹ استعمال ہوتا ہے جبکہ ٹاور کا کل وزن کل وزن 10 ہزار ٹن سے بھی زائد ہے۔

بحریہ ٹاؤن لاہور کا ایفل ٹاور 80 میٹر اونچا پے۔اسے 2013 میں بنایا گیا۔ اسکا ٹکٹ شاید ہزار روپے سے کم ہے۔ پاکستان میں انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سٹارز کے لیے سٹوریز بنانے کے لیے اچھی جگہ ہے۔