مینار پاکستان کے جلسے کے بعد پی ڈی ایم کیا کرنے جارہی؟قیادت نے پلان بتا دیا

0
33

مینار پاکستان کے جلسے کے بعد پی ڈی ایم کیا کرنے جارہی؟قیادت نے پلان بتا دیا

باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق لاہور: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہی اجلاس کے بعد رہنماوں مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کی جاتی امرا میں میڈیا سے گفتگو ہوئی ہے جس میں
مولانا فضل الرحمان کہا ہے کہ ہنگامی سربراہی اجلاس میں 31 دسمبر تک پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کے منتخب اراکین اسمبلی اپنے اپنے استعفے اپنی اپنی قیادت کو جمع کرائیں گے . حکومت 31 جنوری تک مستعفی ہو جائے ورنہ یکم فروری میں لانگ مارچ کا اعلان کر دیا جائے گا . عوام آج سے ہی لانگ مارچ کی تیاریاں شروع کر دے
مینار پاکستان کا تاریخی اور فقید المثال جلسہ کے بعد پی ڈی ایم نے اعلامیہ بھی جاری کیا ہے . پی ڈی ایم کی سٹیئرنگ کمیٹی کا صوبوں کو لانگ مارچ کی تیاری کے سلسلے میں جاری کیا گیا شیڈول بدستور برقرار ہے .ہر صوبے میں میزبانی کمیٹیاں صوبائی قیادت سے مل کر لانگ مارچ کی حتمی تیاری کریں گی
اجلاس میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا گیا اور مذمت کی گئی کہ آئی ایس پی آر نے الیکٹرانک میڈیا پر جلسے کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے لئے دباو ڈالا . ہم میڈیا کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن حکمران اور آمرانہ ذہنیت والے لوگ میڈیا کو گھر کی لونڈی بنا رہے ہیں . سیاسی جماعتیں اپنے اپنے منشور پر انتخابات لڑتی ہیں . ہم تمام جماعتیں ایسے کوئی اقدامات نہیں کرینگی کہ جمہوریت کو کوئی نقصان نہیں ہو گا .اگر یہ استعفے اور اسمبلیاں تحلیل کر دیتے ہیں تو پھر پی ڈی ایم کی مشاورت سے مذاکرات کا فیصلہ ہو سکتا ہے .اس حکومت کے پاس دفاع کی صلاحیت ہی نہیں ہے

ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ چند چینلز نے جھوٹی خبر چلائی، وہ ایسے پروپیگنڈے سے باز آ جائیں
میں نے لاہور کی تنظیم اور خواتین کو دونوں ہاتھوں سے سلام کیا .میں نے جلسہ گاہ چھوٹا رکھنے کی بات ضرور کی کیونکہ بہت سے لوگ رش کی وجہ سے اندر ہی نہیں آ سکے تھے . لوگ گھنٹوں کھڑے رہے اور رش کی وجہ سے کرسیاں نجانے کہاں غائب ہو گئی تھیں .شدید سردی کے باوجود عوام کا جوش و خروش بہت زیادہ تھا .کورونا، حکومتی پروپیگنڈے، پانی چھوڑنے کے باوجود لاہور نے کسی چیز کی پرواہ نہیں کی .حکومت کو بھی حقیقت کا پتہ چل گیا ہے اور ان کے ہاں صف ماتم بچھی ہوئی ہے .ہم اب عوام کی عدالت میں جا چکے ہیں، اب سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کو پیچھے جانا ہی پڑے گا .پی ڈی ایم کو انتخابی اتحاد میں بدلنے قبل از وقت ہو گا .ہم مشترکہ عوامی ایجنڈے پر متفق ہیں
عمران خان کے استعفے کے بعد ہم انتخابی حریف ہی ہیں 

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم سب ایک ہیں اور پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے فیصلے کرینگے .اب مذاکرات نہیں بلکہ عمران خان استعفے کا وقت ہے ،شہباز شریف سے تعزیت کے لئے جیل جا رہا ہوں

Leave a reply